Sahabae Kiram ke lye Sheron ka janglat khali kardena
سلسلہ نمبر2
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے درندوں کا☘🌾 جنگلات خالی کردینا☘🌾
سوال: ارباب تبلیغ سے یہ بات بار بارہا سننے کو ملتی ہے کہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے درندوں نے جنگلات خالی کردیے تھے, کیا یہ بات صحیح ہے؟
جواب : جی ہاں صحیح ہے.
یہ سن پچاس ہجری کا واقعہ ہے جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو افریقہ کی فتح کے لیے روانہ کیا, یہاں بربر قوم آباد تھی, ان میں سے اکثر نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا,اور ان کے ساتھ افریقی ممالک کی فتح میں شریک ہوجاتے, افریقی ممالک فتح تو ہوجاتے لیکن وہاں چوں کہ مسلمانوں کی کوئ فوجی چھاؤنی نہیں تھی، اس لئے جب مجاہدین وہاں سے واپس جاتے تو بربر قوم اپنا معاہدہ توڑ دیتی, اور مسلمانوں کو نقصان پہنچاتی, اس لیے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے یہاں ایک فوجی چھاؤنی بنانے کا ارادہ کیا, مگر اس کے لئے جس جگہ کا انتخاب ہوا وہ ایک خوفناک جنگل تھا، جہاں درندوں کا بسیرا تھا, حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی, پھر ان جنگلی جانوروں کو مخاطب ہو کر یہ اعلان فرمایا :’’اے درندو!اورموذی جانورو!ہم رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے صحابہ ہیں اورہم اس جگہ اپنی بستی بسا کر آباد ہونا چاہتے ہیں لہٰذا تم سب یہاں سے نکل جاؤ ورنہ اس کے بعد ہم تم میں سے جس کو یہاں دیکھیں گے قتل کردیں گے ۔‘‘ اس اعلان کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ درختوں اور پتھروں کی اوٹ سے جانور اپنے بچوں کو اٹھاکر لے جارہے ہیں, اس واقعہ کو دیکھ کے بہت سے بربر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے.
اس جگہ کا نام ''قیروان" رکھا گیا, جو بعد میں مغربی افریقہ کا مشہور شہر بنا,اور ایک زمانے تک افریقہ کا دارالسلطنت بھی رہا.
---------------------------------------------------
ﻗﺎﻟﻮا: ﺇﻥ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﻋﺰﻝ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺑﻦ ﺣﺪﻳﺞ ﻋﻦ ﺇﻓﺮﻳﻘﻴﺔ ﺣﺴﺐ، ﻭاﺳﺘﻌﻤﻞ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻋﻘﺒﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﻓﻊ اﻟﻔﻬﺮﻱ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﻘﻴﻤﺎ ﺑﺒﺮﻗﺔ ﻭﺯﻭﻳﻠﺔ ﻣﺬ ﻓﺘﺤﻬﺎ ﺃﻳﺎﻡ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﻌﺎﺹ، ﻭﻟﻪ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﺒﻼﺩ ﺟﻬﺎﺩ ﻭﻓﺘﻮﺡ، ﻓﻠﻤﺎ اﺳﺘﻌﻤﻠﻪ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺳﻴﺮ ﺇﻟﻴﻪ ﻋﺸﺮﺓ ﺁﻻﻑ ﻓﺎﺭﺱ، ﻓﺪﺧﻞ ﺇﻓﺮﻳﻘﻴﺔ ﻭاﻧﻀﺎﻑ ﺇﻟﻴﻪ ﻣﻦ ﺃﺳﻠﻢ ﻣﻦ اﻟﺒﺮﺑﺮ، ﻓﻜﺜﺮ ﺟﻤﻌﻪ، ﻭﻭﺿﻊ اﻟﺴﻴﻒ ﻓﻲ ﺃﻫﻞ اﻟﺒﻼﺩ ﻷﻧﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﺇﺫا ﺩﺧﻞ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﺃﻣﻴﺮ ﺃﻃﺎﻋﻮا ﻭﺃﻇﻬﺮ ﺑﻌﻀﻬﻢ اﻹﺳﻼﻡ، ﻓﺈﺫا ﻋﺎﺩ اﻷﻣﻴﺮ ﻋﻨﻬﻢ ﻧﻜﺜﻮا ﻭاﺭﺗﺪ ﻣﻦ ﺃﺳﻠﻢ، ﺛﻢ ﺭﺃﻯ ﺃﻥ ﻳﺘﺨﺬ ﻣﺪﻳﻨﺔ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻴﻬﺎ ﻋﺴﻜﺮ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻭﺃﻣﻮاﻟﻬﻢ ﻟﻴﺄﻣﻨﻮا ﻣﻦ ﺛﻮﺭﺓ ﺗﻜﻮﻥ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﺒﻼﺩ، ﻓﻘﺼﺪ ﻣﻮﺿﻊ اﻟﻘﻴﺮﻭاﻥ، ﻭﻛﺎﻥ ﺃﺟﻤﺔ ﻣﺸﺘﺒﻜﺔ ﺑﻬﺎ ﻣﻦ ﺃﻧﻮاﻉ اﻟﺤﻴﻮاﻥ (ﻣﻦ اﻟﺴﺒﺎﻉ) ﻭاﻟﺤﻴﺎﺕ ﻭﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ، ﻓﺪﻋﺎ اﻟﻠﻪ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﺴﺘﺠﺎﺏ اﻟﺪﻋﻮﺓ، ﺛﻢ ﻧﺎﺩﻯ: ﺃﻳﺘﻬﺎ اﻟﺤﻴﺎﺕ ﻭاﻟﺴﺒﺎﻉ ﺇﻧﺎ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ -، اﺭﺣﻠﻮا ﻋﻨﺎ ﻓﺈﻧﺎ ﻧﺎﺯﻟﻮﻥ ﻭﻣﻦ ﻭﺟﺪﻧﺎﻩ ﺑﻌﺪ ﺫﻟﻚ ﻗﺘﻠﻨﺎﻩ. ﻓﻨﻈﺮ اﻟﻨﺎﺱ ﺫﻟﻚ اﻟﻴﻮﻡ ﺇﻟﻰ اﻟﺪﻭاﺏ ﺗﺤﻤﻞ ﺃﻭﻻﺩﻫﺎ ﻭﺗﻨﺘﻘﻞ، ﻓﺮﺁﻩ ﻗﺒﻴﻞ ﻛﺜﻴﺮ ﻣﻦ اﻟﺒﺮﺑﺮ ﻓﺄﺳﻠﻤﻮا،
(الكامل في التاريخ 63/3)
قال الحافظ في الإصابة في ترجمة "عقبة بن نافع " ﻭﺷﻬﺪ ﻓﺘﺢ ﻣﺼﺮ ﻭاﺧﺘﻂ ﺑﻬﺎ، ﺛﻢ ﻭﻻﻩ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺇﻣﺮﺓ اﻟﻤﻐﺮﺏ، ﻭﻫﻮ اﻟﺬﻱ ﺑﻨﻰ اﻟﻘﻴﺮﻭاﻥ. .... ﻭﺭﻭﻯ ﺧﻠﻴﻔﺔ (210)ﺑﺈﺳﻨﺎﺩ ﺣﺴﻦ ﺃﻥ ﻋﻘﺒﺔ ﻟﻤﺎ اﻓﺘﺘﺢ ﺇﻓﺮﻳﻘﻴﺔ ﻭﻗﻒ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻴﺮﻭاﻥ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﺃﻫﻞ ﻫﺬا اﻟﻮاﺩﻱ، ﺇﻧﺎ ﺣﺎﻟﻮﻥ ﻓﻴﻪ ﺇﻥ ﺷﺎء اﻟﻠﻪ، ﻓﺎﻇﻌﻨﻮا ﺛﻼﺙ ﻣﺮاﺕ ﻗﺎﻝ: ﻓﻤﺎ ﻧﺮﻯ ﺣﺠﺮا ﻭﻻ ﺷﺠﺮا ﺇﻻ ﻳﺨﺮﺝ ﻣﻦ ﺗﺤﺘﻪ ﺩاﺑﺔ ﺣﺘﻰ ﻫﺒﻄﻦ ﺑﻄﻦ اﻟﻮاﺩﻱ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: انزلوا بسم اللہ
(الإصابة 51/5)
وانظر: الاستيعاب لابن عبد البر (1075/3) و أسد الغابة لابن الأثير (57/4) والمنتظم لابن الجوزي (11/6)
كتبه: العبد رشيد الدين المعروفي
---------------------------------------------------
https://t.me/ganjinaeilm
تقبل اللہ منک
ReplyDelete