Eed ki mobarakbad dena
تحقيق روایات و واقعات: سلسلہ نمبر 18 🍁🌱عید کی مبارکباد دینا☘🌾 عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشی شادمانی اور مسرت کا موقع ہے, اس موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا ایک مستحسن عمل ہے(1). اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول بھی ہے بل کہ ایک حدیث(2) میں پڑوسی کے حقوق میں یہ بات بھی ذکر کی گئ ہے کہ جب اسے کوئ خوشی پہونچے تو مبارکباد دے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے عید کی مبارکباد دینے کے بارے میں پوچھا گیا کیا یہ مکروہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں , ذیل میں ہم کچھ روایتیں ذکر کرتے ہیں جن میں عید کی مبارکباد دینا صحابہ و تابعین سے منقول ہے ( 1) 123 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺰﺩاﺩ اﻟﺘﻮﺯﻱ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻫﻤﺎﻡ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺠﺎﻉ، ﺛﻨﺎ ﺑﻘﻴﺔ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ، ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﺃﺑﻲ ﻗﺎﻝ: " ﻟﻘﻴﺖ ﻭاﺛﻠﺔ ﻳﻮﻡ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﻠﺖ: ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ ﻓﻘﺎﻝ: ﻧﻌﻢ، ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ " (المعجم الكبير123) (3) قال الہیثمی فی المجمع: ﺭﻭاﻩ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ ﻭﺣﺒﻴﺐ ﻗﺎﻝ اﻟﺬﻫﺒﻲ: ﻣﺠﻬﻮﻝ، ﻭﻗﺪ ﺫﻛﺮﻩ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ﻓﻲ اﻟﺜﻘﺎﺕ، ﻭﺃﺑﻮﻩ ﻟﻢ ﺃﻋﺮﻓﻪ (مجمع الزوائد206/2) عمر الانصارى کہتے ہیں کہ عید کے دن میرى واثلۃ بن الاس...