Posts

Rasoolon ki tadad

 تحقيق روایات و واقعات: سلسلہ نمبر 52 : 🌴🌺انبیا و رسل کی تعداد🎋🌹 سوال : انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد سے متعلق کیا کوئ روایت موجود ہے, مشہور ہے کہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے, اس کی کیا حقیقت ہے ؟ جواب : احادیث میں انبیاء اور رسل دونوں کی تعداد کا ذکر آیا ہے انبیاء کے بارے میں مندرجہ ذیل عدد وارد ہوا ہے :   1/ ایک لاکھ چوبیس ہزار, یہ عدد جن روایات میں وارد ہوا وہ انفرادا گو ضعیف ہیں لیکن چونکہ تین طرق سے مروی ہیں اس لئے مجموعی حیثیت سے بلاشبہ قابل قبول ہے, قال الآلوسي : و في سنده ضعف جبر بالمتابعة(روح المعاني 9/164). باب کی یہی اصح روایت ہے قال القرطبی: هذا أصح ما روي في ذلك (تفسير القرطبي ٧/٢٢٦ ) 2/ کل تعداد آٹھ ہزار جن میں چار ہزار انبیاء بنی اسرائیل ہیں, اور ایک روایت کے بموجب تین ہزار انبیاء بنی اسرائیل ہیں. اس روایت میں راویوں کے ضعف کے ساتھ سند و متن میں اضطراب ہے, سند کا اضطراب شدید ہے, اس لئے یہ روایت قابل اعتبار نہیں. 3/ کل تعداد انبیاء چار ہزار, یہ روایت موضوع ہے 4/ ایک روایت میں آیا ہے : میں ہزار یا اس سے زائد انبیا کا خاتم ہوں, یہ روایت بھی ضعیف ...

Eed ki mobarakbad dena

 تحقيق روایات و واقعات: سلسلہ نمبر 18 🍁🌱عید کی مبارکباد دینا☘🌾 عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشی شادمانی اور مسرت کا موقع ہے, اس موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا ایک مستحسن عمل ہے(1). اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول بھی ہے بل کہ ایک حدیث(2) میں پڑوسی کے حقوق میں یہ بات بھی ذکر کی گئ ہے کہ جب اسے کوئ خوشی پہونچے تو مبارکباد دے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے عید کی مبارکباد دینے کے بارے میں پوچھا گیا کیا یہ مکروہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ,    ذیل میں ہم کچھ روایتیں ذکر کرتے ہیں جن میں عید کی مبارکباد دینا صحابہ و تابعین سے منقول ہے  ( 1) 123 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺰﺩاﺩ اﻟﺘﻮﺯﻱ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻫﻤﺎﻡ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺠﺎﻉ، ﺛﻨﺎ ﺑﻘﻴﺔ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ، ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﺃﺑﻲ ﻗﺎﻝ: " ﻟﻘﻴﺖ ﻭاﺛﻠﺔ ﻳﻮﻡ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﻠﺖ: ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ ﻓﻘﺎﻝ: ﻧﻌﻢ، ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ " (المعجم الكبير123)  (3) قال الہیثمی فی المجمع:  ﺭﻭاﻩ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ ﻭﺣﺒﻴﺐ ﻗﺎﻝ اﻟﺬﻫﺒﻲ: ﻣﺠﻬﻮﻝ، ﻭﻗﺪ ﺫﻛﺮﻩ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ﻓﻲ اﻟﺜﻘﺎﺕ، ﻭﺃﺑﻮﻩ ﻟﻢ ﺃﻋﺮﻓﻪ (مجمع الزوائد206/2) عمر الانصارى کہتے ہیں کہ عید کے دن میرى واثلۃ بن الاس...

Khane ki ibtida namak se

سلسلہ نمبر : 17 نمک سےکھانے کی ابتداء اور اختتام  کرنا سوال: کیا نمک سے کھانے کی ابتداء کرنا یا اختتام نمک پر کرنا کسی حدیث سے ثابت ہے؟  جواب :  ثابت نہیں   تحقیق :   حضرت علی کے وصایا (اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کچھ خصوصی وصیتیں فرمائ تھیں) میں وارد ھوئ ہے کہ   کھانے کے ابتدا وانتہا نمک سے کی جائے، اور کہا گیا ہے کہ اس میں ستر بیماریوں سے شفا ہے مگر یہ سب موضوع و من گھڑت ہیں . وصایا علی پر مشتمل یہ روایات مسند الحارث بن ابی اسامہ وغیرہ میں مخرج ہے جن  کو بوصیری اور ابن حجر  نے اپنے زوائد میں ذکر کیا ہے : (1)- بَابٌ وَصِيَّةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ٣٠٠٤ - قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ السَّرِيُّ بْنُ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- أَنَّهُ قَالَ: قَالَ لِي ر...

Ambiya ki tadad

 سلسلہ نمبر ١٦ 🌴🌺انبیا و رسل کی تعداد🎋🌹 سوال : انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد سے متعلق کیا کوئ روایت موجود ہے, مشہور ہے کہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے, اس کی کیا حقیقت ہے ؟ جواب : احادیث میں انبیاء اور رسل دونوں کی تعداد کا ذکر آیا ہے انبیاء کے بارے میں مندرجہ ذیل عدد وارد ہوا ہے :   1 / ایک لاکھ چوبیس ہزار, یہ عدد جن روایات میں وارد ہوا وہ انفرادا گو ضعیف ہیں لیکن چونکہ تین طرق سے مروی ہیں اس لئے مجموعی حیثیت سے بلاشبہ قابل قبول ہے , قال الآلوسي : و في سنده ضعف جبر بالمتابعة(روح المعاني 9/164). باب کی یہی اصح روایت ہے قال القرطبی: هذا أصح ما روي في ذلك (تفسير القرطبي ٧/٢٢٦ ) 2/ کل تعداد آٹھ ہزار جن میں چار ہزار انبیاء بنی اسرائیل ہیں, اور ایک روایت کے بموجب تین ہزار انبیاء بنی اسرائیل ہیں. اس روایت میں راویوں کے ضعف کے ساتھ سند و متن میں اضطراب ہے, سند کا اضطراب شدید ہے, اس لئے یہ روایت قابل اعتبار نہیں. 3/ کل تعداد انبیاء چار ہزار, یہ روایت موضوع ہے 4/ ایک روایت میں آیا ہے : میں ہزار یا اس سے زائد انبیا کا خاتم ہوں, یہ روایت بھی ضعیف ہے نیز مدعا پر ...

Istiqbale Ramzan ki dua

 سلسلہ نمبر 15 🌴🌙استقبال رمضان کی دعا🌹🎋 سوال : کیا استقبال رمضان کی یہ دعا ثابت ہے:  اللهم سلمني لرمضان وسلم رمضان لي وتسلمه مني متقبلا جواب : جی ہاں  یہ دعا حضرت عبادۃ بن الصامت سے  بسند حسن ثابت ہے, اس کے علاوہ ابوجعفر سے مرسلا, اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بسند ضعیف ثابت ہے, مگر حدیث عبادہ کے ساتھ مل کر یہ لائق اعتبار ہوجائیں گی  اسی طر ح سلف میں مکحول, یحیی بن ابی کثیر سے یہ دعا پڑھنا منقول ہے, عبد العزیز بن رواد اور جریری کا کہنا ہے کہ مسلمان جب رمضان کا مہینہ آتا تھا تو یہ دعا پڑھتے تھے.  تخریج روایات : (1) حديث عبادة: عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال كان رسول الله يعلمنا هؤلاء الكلمات إذا جاء رمضان أن يقول أحدنا اللهم سلمني لرمضان وسلم رمضان لي وتسلمه مني متقبلا أخرجه الطبراني في الدعاء (912) قال حدثنا حفص بن عمر الرقي   و أخرجه الذهبي في سير أعلام النبلاء (14/123) بسنده عن زهير بن أبي زهير  كلاھما (حفص،زهير) عن خلف بن الوليد عن أبي جعفر الرازي عن عبد العزيز بن عمر بن عمر بن عبد العزيز عن صالح بن كيسان عن عبادة بن الصامت رضي ال...

Hamam se nikalne ke bad pairon ko dhona

سلسلہ نمبر 14 :   🍁 حمام سے نکلنے کے بعد ٹھنڈے پانی سے پیروں کو دھونے سے سر درد کارفع ہونا🥀 سوال :  کیا ایسی کوئ حدیث ہے جس میں کہا گیا ہو کہ حمام سے نکلنے کے بعد پیروں کو دھونے سے سرکا درد نہیں ہوتا ؟ جواب : ابونعیم کی الطب میں ایک روایت ہے " غسل القدمين بالماء البارد بعد الخروج من الحمام أمان من الصداع" حمام سے نکلنے بعد ٹھنڈے پانی سے پیروں کو دھونا سر کے درد سے چھٹکارے کا ذریعہ ہے. مگر یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے, علامہ ابن کثیر وغیرہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے.  تفصیل حسب ذیل ہے : تخریج :       روى أبونعيم نعيم في الطب (900-) قال : حَدَّثَنا نصر بن أبي نصر الطوسي قال، حَدَّثَنا عثمان بن أحمد الدقاق قال، حَدَّثَنا إسحاق بن إبراهيم الختلي قال، حَدَّثَنا أبو نصر أحمد بن محمد قال:، حَدَّثَنا موسى بن إبراهيم، عَن إبراهيم بن أبي يحيى، عَن صالح مولى التوأمة، عَن أَبِي هُرَيرة، قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَليْهِ وَسلَّم: غسل القدمين بالماء البارد بعد الخروج من الحمام أمان من الصداع.  (الطب النبوي لأبي نعيم : 2/759)         ...

Dunya Ek murdar h ar us ke talab karne wale kutte hain.

 سلسلہ نمبر 13: 🌴ایک مشہور حدیث : الدنیا جیفۃ وطالبہا کلاب کی تحقیق 🎋 ترجمہ : دنیا ایک مردار لاش ہے اور اس کے طلب کرنے والے کتے ہیں   حاصل تحقیق : یہ حدیث کے عنوان سے مشھور ہے،  مگر حدیث نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے الفاظ کے قدرے فرق کے ساتھ منقول ہے تحقیق : شیخ احمد بن عبد الکریم العزی (متوفی 1143ھ) الجد الحثیث فی بیان مالیس بحدیث ص:100 ح: 165 میں لکھتے ہیں:    لیس بھذ اللفظ فی المرفوع،  نعم جاء عن علی " الدنیا جیفۃ فمن ارادھا فلیصبر علی مخالطۃ الکلاب " علامہ  اسماعیل بن محمد  عجلونی (متوفی 1162ھ) کشف الخفاء میں لکھتے ہیں : 1313- اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺟﻴﻔﺔ، ﻭﻃﻼﺑﻬﺎ ﻛﻼﺏ. ﻗﺎﻝ اﻟﺼﻐﺎﻧﻲ: ﻣﻮﺿﻮﻉ، ﺃﻗﻮﻝ: ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻌﻨﺎﻩ ﺻﺤﻴﺤﺎ ﻟﻜﻨﻪ ﻟﻴﺲ ﺑﺤﺪﻳﺚ ، ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻨﺠﻢ: ﻟﻴﺲ ﺑﻬﺬا اﻟﻠﻔﻆ ﻓﻲ اﻟﻤﺮﻓﻮﻉ ، ﻭﻋﻨﺪ ﺃﺑﻲ ﻧﻌﻴﻢ ﻋﻦ ﻳﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﺃﺳﺒﺎﻁ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ: اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺟﻴﻔﺔ، ﻓﻤﻦ ﺃﺭاﺩﻫﺎ ﻓﻠﻴﺼﺒﺮ ﻋﻠﻰ ﻣﺨﺎﻟﻄﺔ اﻟﻜﻼﺏ ، ﻭﺃﺧﺮﺟﻪ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ ﻋﻨﻪ ﻣﺮﻓﻮﻋﺎ ﻭﺭﻭاﻩ اﻟﺒﺰاﺭ ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻠﻔﻆ: ﻳﻨﺎﺩﻱ ﻣﻨﺎﺩ: ﺩﻋﻮا اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻷﻫﻠﻬﺎ -ﺛﻼﺛﺎ-, ﻣﻦ ﺃﺧﺬ ﻣﻦ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻓﻮﻕ ﻣﺎ ﻳﻜﻔﻴﻪ ﺃﺧﺬ ﺣﺘﻔﻪ ﻭﻫﻮ ﻻ ﻳﺸﻌﺮ، ﻭﺫﻛﺮﻩ اﻟﺴﻴﻮﻃﻲ ﻓﻲ اﻟﺪﺭﺭ ﺑﻠﻔﻆ: اﻟﺪ...