Posts

Showing posts from August, 2020

Hamam se nikalne ke bad pairon ko dhona

سلسلہ نمبر 14 :   🍁 حمام سے نکلنے کے بعد ٹھنڈے پانی سے پیروں کو دھونے سے سر درد کارفع ہونا🥀 سوال :  کیا ایسی کوئ حدیث ہے جس میں کہا گیا ہو کہ حمام سے نکلنے کے بعد پیروں کو دھونے سے سرکا درد نہیں ہوتا ؟ جواب : ابونعیم کی الطب میں ایک روایت ہے " غسل القدمين بالماء البارد بعد الخروج من الحمام أمان من الصداع" حمام سے نکلنے بعد ٹھنڈے پانی سے پیروں کو دھونا سر کے درد سے چھٹکارے کا ذریعہ ہے. مگر یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے, علامہ ابن کثیر وغیرہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے.  تفصیل حسب ذیل ہے : تخریج :       روى أبونعيم نعيم في الطب (900-) قال : حَدَّثَنا نصر بن أبي نصر الطوسي قال، حَدَّثَنا عثمان بن أحمد الدقاق قال، حَدَّثَنا إسحاق بن إبراهيم الختلي قال، حَدَّثَنا أبو نصر أحمد بن محمد قال:، حَدَّثَنا موسى بن إبراهيم، عَن إبراهيم بن أبي يحيى، عَن صالح مولى التوأمة، عَن أَبِي هُرَيرة، قال: قال رسول الله صَلَّى الله عَليْهِ وَسلَّم: غسل القدمين بالماء البارد بعد الخروج من الحمام أمان من الصداع.  (الطب النبوي لأبي نعيم : 2/759)         ...

Dunya Ek murdar h ar us ke talab karne wale kutte hain.

 سلسلہ نمبر 13: 🌴ایک مشہور حدیث : الدنیا جیفۃ وطالبہا کلاب کی تحقیق 🎋 ترجمہ : دنیا ایک مردار لاش ہے اور اس کے طلب کرنے والے کتے ہیں   حاصل تحقیق : یہ حدیث کے عنوان سے مشھور ہے،  مگر حدیث نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے الفاظ کے قدرے فرق کے ساتھ منقول ہے تحقیق : شیخ احمد بن عبد الکریم العزی (متوفی 1143ھ) الجد الحثیث فی بیان مالیس بحدیث ص:100 ح: 165 میں لکھتے ہیں:    لیس بھذ اللفظ فی المرفوع،  نعم جاء عن علی " الدنیا جیفۃ فمن ارادھا فلیصبر علی مخالطۃ الکلاب " علامہ  اسماعیل بن محمد  عجلونی (متوفی 1162ھ) کشف الخفاء میں لکھتے ہیں : 1313- اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺟﻴﻔﺔ، ﻭﻃﻼﺑﻬﺎ ﻛﻼﺏ. ﻗﺎﻝ اﻟﺼﻐﺎﻧﻲ: ﻣﻮﺿﻮﻉ، ﺃﻗﻮﻝ: ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﻌﻨﺎﻩ ﺻﺤﻴﺤﺎ ﻟﻜﻨﻪ ﻟﻴﺲ ﺑﺤﺪﻳﺚ ، ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻨﺠﻢ: ﻟﻴﺲ ﺑﻬﺬا اﻟﻠﻔﻆ ﻓﻲ اﻟﻤﺮﻓﻮﻉ ، ﻭﻋﻨﺪ ﺃﺑﻲ ﻧﻌﻴﻢ ﻋﻦ ﻳﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﺃﺳﺒﺎﻁ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ: اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺟﻴﻔﺔ، ﻓﻤﻦ ﺃﺭاﺩﻫﺎ ﻓﻠﻴﺼﺒﺮ ﻋﻠﻰ ﻣﺨﺎﻟﻄﺔ اﻟﻜﻼﺏ ، ﻭﺃﺧﺮﺟﻪ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ ﻋﻨﻪ ﻣﺮﻓﻮﻋﺎ ﻭﺭﻭاﻩ اﻟﺒﺰاﺭ ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﺑﻠﻔﻆ: ﻳﻨﺎﺩﻱ ﻣﻨﺎﺩ: ﺩﻋﻮا اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻷﻫﻠﻬﺎ -ﺛﻼﺛﺎ-, ﻣﻦ ﺃﺧﺬ ﻣﻦ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻓﻮﻕ ﻣﺎ ﻳﻜﻔﻴﻪ ﺃﺧﺬ ﺣﺘﻔﻪ ﻭﻫﻮ ﻻ ﻳﺸﻌﺮ، ﻭﺫﻛﺮﻩ اﻟﺴﻴﻮﻃﻲ ﻓﻲ اﻟﺪﺭﺭ ﺑﻠﻔﻆ: اﻟﺪ...

Eyadat mukhtasar honi chahye.

 سلسلہ نمبر 12    🌻🌱 مختصر عیادت🍁🥀 سوال : کیا کسی روایت میں یہ آیا ہے کہ عیادت مختصر ہونی چاہیے ؟ جواب : متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ مریض کی عیادت مختصر کرنی  چاہیے, تاکہ مریض پر گراں نہ گذرے, ہوسکتا ہے مریض کو کوئ حاجت ہو اور وہ حاضرین کے سامنے اس کا اظہار نہ کرسکتا ہو, ہاں اگر عیادت کرنے والا ایسا شخص ہے جس سے مریض کو انسیت ہو تو طویل عیادت میں بھی کوئی مضائقہ نہیں علامہ مناوی فیض القدیر میں لکھتے ہیں :ﻭﺫﻟﻚ ﻷﻧﻪ ﻗﺪ ﻳﺒﺪﻭ ﻟﻠﻤﺮﻳﺾ ﺣﺎﺟﺔ ﻓﻴﺴﺘﺤﻲ ﻣﻦ ﺟﻠﺴﺎﺋﻪ (فيض القدير 2/45) و قال في التيسير: ﺃﻓﻀﻞ اﻟﻌﺒﺎﺩﺓ) ﺑﻤﺜﻨﺎﺓ ﺗﺤﺘﻴﺔ ﺃﻱ ﺯﻳﺎﺭﺓ اﻟﻤﺮﻳﺾ (ﺃﺟﺮا ﺳﺮﻋﺔ اﻟﻘﻴﺎﻡ ﻣﻦ ﻋﻨﺪ اﻟﻤﺮﻳﺾ) ﺑﺄﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻗﻌﻮﺩﻩ ﻗﺪﺭ ﻓﻮاﻕ ﻧﺎﻗﺔ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ ﺧﺒﺮ ﺁﺧﺮ ﻷﻧﻪ ﻗﺪ ﻳﺒﺪﻭ ﻟﻠﻤﺮﻳﺾ ﺣﺎﺟﺔ ﻭﻫﺬا ﻓﻲ ﻏﻴﺮ ﻣﺘﻌﻬﺪﻩ ﻭﻣﻦ ﻳﺄﻧﺲ ﺑﻪ  (التيسير1/187)     بعض روایات میں عیادت کے اختصار کو بتلانے کے لئے  "فواق ناقة" ہے  جیسا کہ حدیث انس میں ہے: "العيادة فواق ناقة" یعنی عیادت اونٹنی کے تھن دوہتے وقت ایک مرۃ اور دوسری مرۃ کے درمیان جو فرق ہوتا ہے (یعنی ایک بار تھن کھینچنے سے دوسری بار کھینچنے کا فاصلہ) اتن...

Chitkabre Janwar Ki Qurbani

سلسلہ نمبر 11 🍁🌺 چتکبرے جانور کی قربانی 🍁🥀 کیا چتکبرے جانور کی قربانی کی افضلیت پر کوئ روایت ہے ؟ جواب : جی ہاں, اس مضمون پر دو روایتیں ہیں  1. چتکبرے جانور کی قربانی مجھے دو سیاہ فام جانور کی قربانی سے زیادہ محبوب ہے 2. چتکبرے جانور کی قربانی اللہ کے یہاں دو کالے جانور کی قربانی سے زیادہ پاکیزہ ہے.    ان کی اسناد ضعیف ہیں لیکن تعدد طرق کی بنا پر ضعف کا انجبار ہوجاتا ہے, اس میں اول الذکر روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے, اور مؤخر الذکر روایت حضرت کبیرہ بنت سفیان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے, اس کے علاوہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے مگر اس میں حمزۃ النصیبی وضاع راوی ہے .      علاوہ ازیں صحیح روايت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا چتکبرے جانور کی قربانی کرنا منقول ہے :   ١- [عن أبي سعيد الخدري:] كان رسول اللهِ ﷺ يضحي بكبش أقرن فحيل ينظر في سواد ويأكل في سواد ويمشي في سواد (سنن أبي داؤد 2796. و صححه ابن دقيق العيد : الاقتراح : 111) اسی طرح صحیحین کی روایت میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے چتکبرے مینڈھے...