Kya Qurbani ki koi FAZILAT sabit nahi h?

سلسلہ نمبر 8: https://t.me/ganjinaeilm

  کیا قربانی کی کوئ فضیلت ثابت نہیں ہے ؟ 


   سوال : کیا قربانی کوئ فضیلت کسی حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہے ؟ ابن العربی کے حوا لے سے کہا جاتا ہے کہ قربانی کی کوئ فضیلت ثابت نہیں ہے,  اس کی کیا حقیقت ہے 

جواب : قربانی کی فضیلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا ہے بلکہ مواظبت کے ساتھ کیا ہے اور اسے سنۃ المسلمین (مسلمانوں کا وطیرہ) قرار دیا ہے, صحیح بخاری میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : من ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين (بخاري:5545) (جس نے ذبح نماز کے بعد کیا اس کی قربانی مکمل ہوگئ اور مسلمانوں کی سنت کو پالیا), اتنا ہی نہیں قربانی اسلام کے شعائر اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یادگار کے طور پر منائی جاتی ہے, نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے ہجرت کے بعد پابندی سے قربانی فرمائ ہے :أقام النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة عشر سنين يضحي (أخرجه أحمد (٤٩٥٥)( والترمذي(١٥٠٧)، وحسنه و صححه أحمد شاكر . ) قربانی کو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ضروری قرار دیا ہے : على أهل كل بيت أضحية (أخرجه أحمد والأربعة بسند قوي: فتح الباري4/10) اور قربانی نہ کرنے والوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے : من وجد سعة فلم يضح فلا يقربن مصلانا  (جو آدمی قربانی کی استطاعت میسر ہونے کے بعد بھی قربانی نہ کرے وہ ہمارے عیدگاہ کے قریب نہ آئے ( أخرجه ابن ماجه وأحمد ورجاله ثقات، قال الحافظ اختلف في وقفه ورفعه، والذي رفعه ثقة (الدراية ٢‏/٢١٣ )

    اب رہی بات ابن العربی کی تو ان کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ قربانی پر کسی خاص ثواب کے مرتب ہونے پر کوئ حدیث صحت اصطلاحی کے درجے کو پہونچی ہوئ نہیں ہے, کیوں کہ اس باب میں جو روایات ہیں یا تو ضعیف ہیں یا موضوع ہیں 

ذیل میں ہم اجمالا ان روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں بعده اس پر مفصل کلام کریں گے 

موضوع روایات : 

  1.  قربانی کے جانور کو موٹا کرو , کیوں کہ یہ پلصراط پر تمہاری سواری کے کام آئے گا , یہ روایت ثابت نہیں ہے, لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قربانی کا جانور دبلا پتلا لینا چاہیے, قربانی کے جانور کا عمدہ اور فربہ ہونا دوسرے دلائل سے ثابت ہے, بخاری شریف میں ہے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مدینہ میں ہم قربانی کے جانور کو موٹا کرتے تھے اور مسلمان بھی کرتے تھا (بخاری/ الأضحية)  مگر پلصراط کی فضیلت والی روایت ثابت نہیں ہے.
  2.  اے فاطمہ قربانی کے سامنے حاضر رہا کرو کیونکہ اس کے پہلے قطرۂ خون سے تمہاری مغفرت ہوجائے گی. 


3 . "جو شخص خوش دلی سے ثواب کی امید کے ساتھ قربانی کرے گا قربانی اس کے لئے جہنم سے آڑ بنے" اس کا مضمون گرچہ صحیح ہے مگر یہ حدیث ثابت نہیں ہے. 

ضعیف روایات :

  1/ قربانی کے ہر بال بدلے ایک نیکی 

2/ قربانی کا جانور اپنے کھر, بال اور سینگ کو لے کر اللہ کے یہاں حاضر ہوگا, اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں مقبول ہوجاتا ہے 

3/ یہ قربانی کیا ہے ؟ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے.

تخریج و تفصیل :

موضوع روایات :

1.قربانی کے جانور کی پلصراط پر سواری 

اﺳﺘﻔﺮﻫﻮا ﺿﺤﺎﻳﺎﻛﻢ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻣﻄﺎﻳﺎﻛﻢ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺮاﻁ" (اپنی قربانی کے جانور کو فربہ کرو, یہ پل صراط پر تمہاری سواری ہوگی)
 ﺭﻭاﻩ اﻟﻀﻴﺎء ﻓﻲ " اﻟﻤﻨﺘﻘﻰ ﻣﻦ ﻣﺴﻤﻮﻋﺎﺗﻪ ﺑﻤﺮﻭ" (33/2) ﻋﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﻋﻦ
ﺃﺑﻴﻪ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﻳﻘﻮﻝ: ﻓﺬﻛﺮﻩ ﻣﺮﻓﻮﻋﺎ
و ذكر بعضهم عظموا ضحاياكم... 

یہ حدیث عظموا ضحاياكم کے الفاظ سے تو بالکل غیر ثابت ہے, یعنی اس کی کہیں کوئی سند ہی نہیں, استفرھوا ضحاياكم کے الفاظ سے مسند الفردوس وغیرہ میں منقول ہے مگر اس کی سند بھی ناقابل اعتبار ہے

قال الحافظ فی التلخيص : ﺣﺪﻳﺚ: "ﻋﻈﻤﻮا ﺿﺤﺎﻳﺎﻛﻢ؛ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺮاﻁ ﻣﻄﺎﻳﺎﻛﻢ"، ﻟﻢ ﺃﺭﻩ، ﻭﺳﺒﻘﻪ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻲ "اﻟﻮﺳﻴﻂ"، ﻭﺳﺒﻘﻬﻤﺎ ﻓﻲ "اﻟﻨﻬﺎﻳﺔ" ﻭﻗﺎﻝ ﻣﻌﻨﺎﻩ: ﺇﻧﻬﺎ ﺗﻜﻮﻥ ﻣﺮاﻛﺐ اﻟﻤﻀﺤﻴﻦ.
ﻭﻗﻴﻞ: ﺇﻧﻬﺎ ﺗﺴﻬﻞ اﻟﺠﻮاﺯ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺮاﻁ.
ﻗﺎﻝ اﺑﻦ اﻟﺼﻼﺡ: ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻏﻴﺮ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻭﻻ ﺛﺎﺑﺖ ﻓﻴﻤﺎ ﻋﻠﻤﻨﺎﻩ، اﻧﺘﻬﻰ.
ﻭﻗﺪ ﺃﺷﺎﺭ اﺑﻦ اﻟﻌﺮﺑﻲ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻲ "ﺷﺮﺡ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ" ﺑﻘﻮﻟﻪ: ﻟﻴﺲ ﻓﻲ ﻓﻀﻞ اﻷﺿﺤﻴﺔ ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ، ﻭﻣﻨﻬﺎ ﻗﻮﻟﻪ: "ﺇﻧﻬﺎ ﻣﻄﺎﻳﻜﻢ ﺇﻟﻰ اﻟﺠﻨﺔ".قلت: ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺻﺎﺣﺐ "ﻣﺴﻨﺪ اﻟﻔﺮﺩﻭﺱ" ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻖ اﺑﻦ اﻟﻤﺒﺎﺭﻙ، ﻋﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻮﻫﺐ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﺭﻓﻌﻪ: اﺳﺘﻔﺮﻫﻮا ﺿﺤﺎﻳﺎﻛﻢ؛ ﻓﺈﻧﻬﺎ ﻣﻄﺎﻳﺎﻛﻢ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺮاﻁ، ﻭﻳﺤﻴﻰ ﺿﻌﻴﻒ ﺟﺪا.  (تلخیص الحبیر 4/341)

و حكاه السخاوي في المقاصد الحسنة ( 1/114) و العجلوني في كشف الخفاء (1/138)

و قال محمد الدرويش: ﺣﺪﻳﺚ ﻏﻴﺮ ﺛﺎﺑﺖ، ﻛﻤﺎ ﻗﺎﻝ اﺑﻦ اﻟﺼﻼﺡ ﻭﻏﻴﺮﻩ، ﻭﻣﺜﻠﻪ: " ﺇﻧﻬﺎ ﻣﻄﺎﻳﺎﻛﻢ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ " ﻭﻟﻴﺲ ﻓﻲ ﻓﻀﻞ ﻭﺻﻒ اﻷﺿﺤﻴﺔ ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ. 
  (أسنى المطالب ص 53)


2. قربانی کے سامنے حاضر  رہنے والی  روایت : 


قومي الى أضحيتك : اے فاطمہ اپنی قربانی کے سامنے حاضر رہا کرو, کیوں کہ اس کے اولین قطرے کے بدلے تمہاری مغفرت کردی جاتی ہے. الخ. 
یہ حدیث تین صحابہ سے مروی ہے , مگر اس کا کوئی بھی طریق پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا ہے اور نہ ہی متابعت کے لائق ہے 

حدیث عمران بن الحصین:

روى الطبراني في الأوسط (2530) حدثنا أبو مسلم قال : حدثنا معقل بن مالك قال : حدثنا النضر بن إسماعيل البجلي ، عن أبي حمزة الثمالي ، عن سعيد بن جبير عن عمران بن الحصين قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك ، فإنه يغفر لك بكل قطرة من دمها كل ذنب عملتيه ، وقولي : إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين ، لا شريك له ، وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين " فقال عمران : يا رسول الله ، هذا لك ولأهل بيتك خاصة ، فأهل ذلك أنتم ، أم للمسلمين عامة ؟ قال : " بل للمسلمين عامة .
  و رواه الحاكم في المستدرك (7542) عن أبي بكر بن إسحاق عن اسماعيل بن قتيبة عن أبي بكر بن أبي شيبة عن النضر بن إسماعيل به.

وقال الذهبي في " المهذب" فيه ثابت بن أبي صفية أبو حمزة الثمالي ضعيف جداً، وسعيد عن عمران منقطع
ويروى عن عمرو بن قيس عن عطية العوفي أحد الضعفاء – عن أبي سعيد الخدري مرفوعاً نحوه  (المهذب للذهبي ٤/٤٣١

حديث أبي سعيد الخدري :

 أخرج الحاكم في المستدرك (7525)ﺣﺪﺛﻨﺎﻩ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺎﻟﻮﻳﻪ، ﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺷﺒﻴﺐ اﻟﻤﻌﻤﺮﻱ، ﺛﻨﺎ ﺩاﻭﺩ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺤﻤﻴﺪ، ﺛﻨﺎ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻗﻴﺲ اﻟﻤﻼﺋﻲ، ﻋﻦ ﻋﻄﻴﺔ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﺨﺪﺭﻱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻔﺎﻃﻤﺔ ﻋﻠﻴﻬﺎ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﺴﻼﻡ: «ﻗﻮﻣﻲ ﺇﻟﻰ ﺃﺿﺤﻴﺘﻚ ﻓﺎﺷﻬﺪﻳﻬﺎ ﻓﺈﻥ ﻟﻚ ﺑﺄﻭﻝ ﻗﻄﺮﺓ ﺗﻘﻄﺮ ﻣﻦ ﺩﻣﻬﺎ ﻳﻐﻔﺮ ﻟﻚ ﻣﺎ ﺳﻠﻒ ﻣﻦ ﺫﻧﻮﺑﻚ» ﻗﺎﻟﺖ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﻫﺬا ﻟﻨﺎ ﺃﻫﻞ اﻟﺒﻴﺖ ﺧﺎﺻﺔ ﺃﻭ ﻟﻨﺎ ﻭﻟﻠﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻋﺎﻣﺔ؟ ﻗﺎﻝ: «ﺑﻞ ﻟﻨﺎ ﻭﻟﻠﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻋﺎﻣﺔ» 
و رواه البزار في مسنده  و قالﻻ ﻧﻌﻠﻢ ﻟﻪ ﻃﺮﻳﻘﺎ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ ﺃﺣﺴﻦ ﻣﻦ ﻫﺬﻩ اﻟﻄﺮﻳﻖ، ﻭﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻗﻴﺲ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ ﺃﻓﺎﺿﻞ اﻟﻚﻭﻓﺔ ﻭﻋﺒﺎﺩﻫﻢ، ﻣﻤﻦ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ، اﻧﺘﻬﻰ.

قال الذهبي في التلخيص: ﻋﻄﻴﺔ ﻭاﻩ. و قال في المهذب عقب حديث عمران : ويروى عن عمرو بن قيس عن عطية العوفي أحد الضعفاء – عن أبي سعيد الخدري مرفوعاً نحوه  (المهذب 4/431)

و قال ابن الملقن في البدر المنير ردا على قول الحاكم ان هذا الحديث شاهد لحديث عمران : هذا الشاهد يحتاج إلى دعائم، فعطية واه، و فيه داؤد بن عبد الحميد الكوفي، قال أبوحاتم : حديثه يدل على ضعفه (البدر المنير٢٣٦)


حديث علي بن أبي طالب :

روى الحافظ أبوبكر البيهقي في السنن الكبرى (19161)  ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ اﻷﺻﺒﻬﺎﻧﻲ، ﺃﻧﺒﺄ ﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺎﺩ , ﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺰﻋﻔﺮاﻧﻲ، ﺛﻨﺎ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﻫﺎﺭﻭﻥ، ﺃﻧﺒﺄ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ، ﺛﻨﺎ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ، ﻋﻦ ﺁﺑﺎﺋﻪ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ , ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ ﻟﻓﺎﻃﻤﺔ: " ﻳﺎ ﻓﺎﻃﻤﺔ ﻗﻮﻣﻲ ﻓﺎﺷﻬﺪﻱ ﺃﺿﺤﻴﺘﻚ , ﺃﻣﺎ ﺇﻥ ﻟﻚ ﺑﺄﻭﻝ ﻗﻄﺮﺓ ﺗﻘﻄﺮ ﻣﻦ ﺩﻣﻬﺎ ﻣﻐﻔﺮﺓ ﻟﻜﻞ ﺫﻧﺐ , ﺃﻣﺎ ﺇﻧﻪ ﻳﺠﺎء ﺑﻬﺎ ﻳﻮﻡ اﻟﻖﻳﺎﻣﺔ ﺑﻠﺤﻮﻣﻬﺎ ﻭﺩﻣﺎﺋﻬﺎ ﺳﺒﻌﻴﻦ ﺿﻌﻔﺎ ﺣﺘﻰ ﺗﻮﺿﻊ ﻓﻲ ﻣﻴﺰاﻧﻚ ". ﻓﻘﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﺨﺪﺭﻱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺃﻫﺬﻩ ﻵﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﺧﺎﺻﺔ ﻓﻬﻢ ﺃﻫﻞ ﻟﻤﺎ ﺧﺼﻮا ﺑﻪ ﻣﻦ ﺧﻴﺮ , ﺃﻭ ﻵﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻭاﻟﻨﺎﺱ ﻋﺎﻣﺔ؟ ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: " ﺑﻞ ﻫﻲ ﻵﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻭاﻟﻨﺎﺱ ﻋﺎﻣﺔ ".

قال الحافظ في التلخيص : ﻭﻓﻴﻪ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﻟﻮاﺳﻄﻲ، ﻭﻫﻮ ﻣﺘﺮﻭﻙ. (تلخيص الحبير ٤/٣٥٣)

و عمرو بن خالد هذا رماه غير واحد بالوضع ففي التهذيب:ﻗﺎﻝ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﻭﻗﺎﻝ اﻷﺛﺮﻡ ﻋﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻛﺬاﺏ ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﻋﻦ ﺁﺑﺎﺋﻪ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ﻳﻜﺬﺏ ﻭﻗﺎﻝ ﻋﺒﺎﺱ اﻟﺪﻭﺭﻱ ﻋﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﻣﻌﻴﻦ ﻛﺬاﺏ ﻏﻴﺮ ﺛﻘﺔ ﻭﻻ ﻣﺄﻣﻮﻥ ﻭﻗﺎﻝ ﻫﺎﺷﻢ ﺑﻦ ﻣﺮﺛﺪ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻋﻦ ﺑﻦ ﻣﻌﻴﻦ ﻛﺬاﺏ ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﻭﻗﺎﻝ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﺭاﻫﻮﻳﻪ ﻭﺃﺑﻮ ﺯﺭﻋﺔ: ﻛﺎﻥ ﻳﻀﻊ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺫاﻫﺐ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻻ ﻳﺸﺘﻐﻞ ﺑﻪ ﻭﻗﺎﻝ اﻵﺟﺮﻱ ﺳﺄﻟﺖ ﺃﺑﺎ ﺩاﻭﺩ ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﻟﺬﻱ ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻨﻪ ﺃﺑﻮ ﺣﻔﺺ اﻷﺑﺎﺭ ﻓﻘﺎﻝ ﻫﺬا ﻛﺬاﺏ ﻭﻗﺎﻝ ﺃﻳﻀﺎ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺩاﻭﺩ ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﻗﺎﻝ ﻭﻛﻴﻊ:  ﻛﺎﻥ ﺟﺎﺭﻧﺎ ﻓﻈﻬﺮﻧﺎ ﻣﻨﻪ ﻋﻠﻰ ﻛﺬﺏ ﻓﺎﻧﺘﻘﻞ ﻗﻠﺖ ﺇﻟﻰ ﻭاﺳﻂ ﻗﺎﻝ ﻧﻌﻢ ﻭﻗﺎﻝ ﻏﻴﺮﻩ ﻋﻦ ﻭﻛﻴﻊ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺟﻮاﺭﻧﺎ ﻳﻀﻊ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻠﻤﺎ ﻓﻄﻦ ﻟﻪ ﺗﺤﻮﻝ ﺇﻟﻰ ﻭاﺳﻂ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﻟﻴﺲ ﺑﺜﻘﺔ ﻭﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻗﻠﺖ ﻭﻗﺎﻝ ﻓﻲ ﻣﻮﺿﻊ ﺁﺧﺮ ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺠﻮﺯﺟﺎﻧﻲ ﻏﻴﺮ ﺛﻘﺔ ﻭﺭﻣﺎﻩ ﺑﻦ اﻟﺒﺮﻗﻲ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﻭﻗﺎﻝ ﺑﻦ ﺻﺎﻋﺪ ﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺤﺎﻛﻢ ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ اﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﻭﺫﻛﺮﻩ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻓﻲ اﻻ ﻓﻲ ﻓﺼﻞ ﻣﻦ ﻣﺎﺕ ﻣﻦ ﻋﺸﺮ ﻭﻣﺎﺋﻪ ﺇﻟﻰ ﻋﺸﺮﻳﻦ ﻭﻣﺎﺋﻪ ﻭﻗﺎﻝ ﻣﻨﻜﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻧﻌﻴﻢ اﻷﺻﺒﻬﺎﻧﻲ ﻻ ﺷﻲء ﻭﻗﺎﻝ اﻷﺛﺮﻡ ﻟﻢ ﺃﺳﻤﻊ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻳﺼﺮﺡ ﻓﻲ ﺃﺣﺪ ﻣﺎ ﺻﺮﺡ ﺑﻪ ﻓﻲ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﻣﻦ اﻟﺘﻜﺬﻳﺐ ﻭﻗﺎﻝ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻓﻲ ﻣﺴﻨﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺿﺮﺏ ﺃﺑﻲ ﻋﻠﻲ ﺣﺪﻳﺚ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺫﻛﻮاﻥ ﻓﻈﻨﻨﺖ ﺃﻧﻪ ﺗﺮﻙ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻣﻦ ﺃﺟﻞ ﺃﻧﻪ ﺭﻭﻯ ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﻟﺬﻱ ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﻭﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﻻ ﻳﺴﺎﻭﻱ ﺷﻴﺌﺎ (تهذيب التهذيب 8/26,27)
و قال الذهبي في الكاشف (2/75) : كذبوه. و قال في المغني ﻗ / ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﻟﻘﺮﺷﻲ اﻟﻮاﺳﻄﻲ ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﻋﻦ ﺁﺑﺎﺋﻪ ﻛﺬﺑﻪ ﺃﺣﻤﺪ ﻭاﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ ﻭﻗﺎﻝ ﻭﻛﻴﻊ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺟﻮاﺭﻧﺎ ﻳﻀﻊ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺛﻢ ﺗﺤﻮﻝ ﺇﻟﻰ ﻭاﺳﻂ (المغني 2/483): ابن حجر في التقريب : ﻣﺘﺮﻭﻙ ﻭﺭﻣﺎﻩ ﻭﻛﻴﻊ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ (تقريب التهذيب 421)
   من ثم حكم الألباني عليه بالوضع. (سلسلة الضعيفة 14/751)



3. قربانی کا جہنم سے حجاب ہونے والی روایت :


ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ثواب کی نیت سے قربانی کرے وہ اس کے لئے جہنم سے آڑ ہوگی" روایت کا مضمون گو درست ہے مگر یہ روایت ثابت نہیں ہے 

اسی طرح ایک روایت نقل کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قربانی کے ہر عضو کے بدلے قربانی کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے نجات دلائیں گے" یہ روایت بھی بے اصل ہے. 


روى  الطبراني في الكبير (2736 )- ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﻨﺨﻌﻲ اﻟﻘﺎﺿﻲ اﻟﻜﻮﻓﻲ، ﺛﻨﺎ ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺎﻟﻚ اﻟﺠﻨﺒﻲ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ اﻟﻨﺨﻌﻲ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﺟﺪﻩ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: «ﻣﻦ ﺿﺤﻰ ﻃﻴﺒﺔ ﺑﻬﺎ ﻧﻔﺴﻪ، ﻣﺤﺘﺴﺒﺎ ﻷﺿﺤﻴﺘﻪ؛ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻪ ﺣﺠﺎﺑﺎ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ» 

ترجمہ : جو شخص خوش دلی سے قربانی کرے, اپنی قربانی پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے تو وہ اس کے لئے جہنم سے حجاب ہوگی 

قال الهيثمي : ﻓﻴﻪ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﻨﺨﻌﻲ، ﻭﻫﻮ ﻛﺬاﺏ. (مجمع الزوائد 4/17) 
قال المناوي في الفيض : ﻗﺎﻝ اﻟﻬﻴﺜﻤﻲ: ﻓﻴﻪ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ اﻟﻨﺨﻌﻲ ﻭﻫﻮ ﻛﺬاﺏ اﻩ. ﻓﻜﺎﻥ ﻳﻨﺒﻐﻲ ﻟﻠﻤﺼﻨﻒ ﺣﺬﻓﻪ ﻣﻦ اﻟﻜﺘﺎﺏ
(فيض القدير 6/173)
و قال ابن الملقن : و أبوداؤد هذا كذاب، قال أحمد : كان يضع الحديث. (البدر المنير 9/276)
ﻭ قال ابن حجر : ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﻛﺬاﺏ ﻗﺎﻝ ﺃﺣﻤﺪ ﻛﺎﻥ ﻳﻀﻊ اﻟﺤﺪﻳﺚ. (التلخيص الحبير 4/343)

و قال الألباني : موﺿﻮﻉ.قال اﻟﻬﻴﺜﻤﻲ ﻓﻲ " اﻟﻤﺠﻤﻊ " (4 / 17) ﻭﻗﺪ ﺫﻛﺮﻩ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ: " ﺭﻭاﻩ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ " اﻟﻜﺒﻴﺮ " ﻭﻓﻴﻪ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﻨﺨﻌﻲ ﻭﻫﻮ ﻛﺬاﺏ ". ﻗﻠﺖ: ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ﻓﻴﻪ (1 / 330) : " ﻛﺎﻥ ﺭﺟﻼ ﺻﺎﻟﺤﺎ ﻓﻲ اﻟﻈﺎﻫﺮ ﺇﻻ ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﻀﻊ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﺿﻌﺎ (الضعيفة 2/15)


 قال الحافظ : ورد أن الله يعتق بكل عضو من الضحية عضوا من المضحي }. لم أره هكذا ، وقال ابن الصلاح : هذا حديث غير معروف ، ولم نجد له سندا يثبت به ، انتهى . ﻓﻲ ﻣﻌﺠﻢ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻧﺤﻮﻩ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺚ ﺃﺑﻲ ﺩاﻭﺩ ﻭاﻟﻨﺨﻌﻲ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻋﻦ ﺟﺪﻩ ﻣﻌﺮﻭﻓﺎ "ﻣﻦ ﺿﺤﻰ ﻃﻴﺒﺔ ﺑﻬﺎ ﻧﻔﺴﻪ ﻣﺤﺘﺴﺒﺎ ﺑﺄﺿﺤﻴﺘﻪ ﻛﺎﻧﺖ ﻟﻪ ﺣﺠﺎﺑﺎ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ"  ﻭﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﻛﺬاﺏ ﻗﺎﻝ ﺃﺣﻤﺪ ﻛﺎﻥ ﻳﻀﻊ اﻟﺤﺪﻳﺚ.
      (تلخيص الحبير 4/251) 
أخرجه الطبراني في الكبير (2736)  ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﻨﺨﻌﻲ اﻟﻘﺎﺿﻲ اﻟﻜﻮﻓﻲ، ﺛﻨﺎ ﻋﻤﺎﺭ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺎﻟﻚ اﻟﺠﻨﺒﻲ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ اﻟﻨﺨﻌﻲ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﺣﺴﻦ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﺟﺪﻩ مرفوعا.


ضعیف احادیث :

1. قربانی کے دن خرچ کا سب سے بڑا مصرف قربانی ہے :

اس مضمون پر مشتمل حدیث ابن عباس ہے جو دو سندوں سے منقول ہے


 ١ عن اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: «ﻣﺎ ﺃﻧﻔﻘﺖ اﻟﻮﺭﻕ ﻓﻲ ﺷﻲء ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻧﺤﻴﺮ ﻳﻨﺤﺮ ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﻋﻴﺪ» 
  
حاصل ترجمہ : "عید کے دن قربانی سے زیادہ کسی چیز میں مال صرف کرنا اللہ کو محبوب نہیں ہے". 


أخرجه الطبراني -واللفظ له- في المعجم الكبير (11/ 17).  ولبيهقي في سننه الكبرى (9/ 260). وقال: تفرد به محمد بن ربيعة عن إبراهيم الخوزي وليسا بالقويين. وأيضا في شعب الإيمان (5/ 482). والدارقطني في سننه (4/ 282). وابن عدي في الكامل (1/ 227). وابن الجوزي في العلل المتناهية (2/ 569). كلهم من طريق محمد بن ربيعة الكلابي.

وأخرجه ابن حبان في المجروحين (1/ 101) من طريق عثمان بن عبد الرحمن. كلاهما: (محمد بن ربيعة الكلابي، وعثمان بن عبد الرحمن) عن إبراهيم بن يزيد الخوزي عن عمرو بن دينار عن ابن عباس مرفوعا.

اس تخریج سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا مدار الاسناد ابراہیم بن یزید الخوضی ہے, جو کہ ضعیف ہے, یہاں سے معلوم ہوا کہ امام بیہقی کا یہ کہنا تفرد بہ محمد بن ربیعۃ عن ابراهيم الخوضی یعنی محمد بن ربیعہ کے تفرد کی بات کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ ابن حبان کے یہاں ان کے متابع عثمان بن عبد الرحمن موجود ہیں

ابراہیم بن یزید الخوضی ضعیف راوی ہے, بلکہ شدید الضعف ہے حافظ ذہبی میزان میں رقم طراز ہیں :
ﻗﺎﻝ ﺃﺣﻤﺪ، ﻭاﻟﻨﺴﺎﺋﻲ: ﻣﺘﺮﻭﻙ. وﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻣﻌﻴﻦ: ﻟﻴﺲ ﺑﺜﻘﺔ.وﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﺳﻜﺘﻮا ﻋﻨﻪ. قاﻝ اﺑﻦ ﺳﻌﺪ: ﻣﺎﺕ ﺳﻨﺔ ﺇﺣﺪﻯ ﻭﺧﻤﺴﻴﻦ.و ﻛﺎﻥ ﻳﺴﻜﻦ ﺷﻌﺐ اﻟﺨﻮﺯ ﺑﻤﻜﺔ. وﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻋﺪﻱ: ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ. (ميزان الاعتدال 1/75)

و قال في الكاشف :
223- ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ اﻟﺨﻮﺯﻱ ﻣﻜﻲ ﻭاﻩ ﻋﻦ ﻃﺎﻭﺱ ﻭﻃﺎﺋﻔﺔ ﻭﻋﻨﻪ ﻭﻛﻴﻊ ﻭﻋﺒﺪ اﻟﺮﺯاﻕ ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﺳﻜﺘﻮا ﻋﻨﻪ ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺣﻤﺪ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﻣﺎﺕ 151 ﺗ ﻗ  (الكاشف 1/227) 
و قال الحافظ في التقريب : متروك الحديث(تقريب التهذيب ص:95)


قال الهيثمي : ﺭﻭاﻩ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ، ﻭﻓﻴﻪ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ اﻟﺨﻮﺯﻱ، ﻭﻫﻮ ﺿﻌﻴﻒ. (المعجم الكبير 4/17) و قال ابن القيسراني : رواه إبراهيم الخوضي عن عمرو بن دينار عن طاؤس عن ابن عباس، و إبراهيم ليس بشئ في الحديث (تذكرة الحفاظ لابن القيسراني 1/273)
و ضعفه  البيهقي في السنن ، والحسن بن أحمد الصنعاني في فتح الغفار 
 و ضعفهالألباني في ضعيف الجامع (1/727)


حدیث ابن عباس ۲:
10948 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪاﻥ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﺛﻨﺎ ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ، ﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ اﻟﺨﺸﻨﻲ، ﻋﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺵ، ﻋﻦ ﻟﻴﺚ، ﻋﻦ ﻃﺎﻭﺱ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﺃﺿﺤﻰ: «ﻣﺎ ﻋﻤﻞ اﺑﻦ ﺁﺩﻡ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﻴﻮﻡ، ﺃﻓﻀﻞ ﻣﻦ ﺩﻡ ﻳﻬﺮاﻕ، ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﺭﺣﻤﺎ ﻣﻘﻄﻮﻋﺔ ﺗﻮﺻﻞ» 
(المعجم الكبير للطبراني)
     ترجمہ : ابن آدم نے اس دن (قربانی) بہائے جانے والے خون (قربانی) سے افضل کوئ عمل نہیں کیا, سوائے اس کے کہ کوئ ٹوٹے ہوئے رشتہ کو جوڑ دے

الحکم علی الحدیث :

و هو حديث ضعيف ، قال المنذري : رواه الطبراني في الكبير عن ابن عباس وفي إسناده يحيى بنُ الحسن الخُشني لا يحضرني حاله (الترغيب والترهيب2/102)
و لكنه ليس في نسختنا يحيى بن الحسن، بل الحسن بن يحيي الخشني، و هو صدوق كثير الغلط كما في التقريب.
قال الألباني : ﻗﺎﻝ المنذزي (2 / 102) : " ﺭﻭاﻩ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻭﻓﻲ ﺇﺳﻨﺎﺩﻩ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻦ اﻟﺨﺸﻨﻲ ﻻ ﻳﺤﻀﺮﻧﻲ ﺣﺎﻟﻪ ". ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻬﻴﺜﻤﻲ ﻓﻘﺎﻝ (4 / 18) : " ﻫﻮ ﺿﻌﻴﻒ ﻭﻗﺪ ﻭﺛﻘﻪ ﺟﻤﺎﻋﺔ ". ﻛﺬا ﻗﺎﻝ، ﻭﻟﻢ ﺃﺟﺪ ﻟﻪ ﺫﻛﺮا ﻓﻲ ﺷﻲء ﻣﻦ ﻛﺘﺐ اﻟﺮﺟﺎﻝ اﻟﺘﻲ ﻋﻨﺪﻱ. ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻋﻠﻢ.
ﻫﺬا ﻣﺎ ﻛﻨﺖ ﻧﺸﺮﺗﻪ ﻓﻲ " ﻣﺠﻠﺔ اﻟﺘﻤﺪﻥ اﻹﺳﻼﻣﻲ " اﻟﻐﺮاء، ﻭﺃﺯﻳﺪ اﻵﻥ ﻓﺄﻗﻮﻝ: ﺫﻛﺮ اﻟﺴﻤﻌﺎﻧﻲ ﻓﻲ ﻣﺎﺩﺓ (اﻟﺨﺸﻨﻲ) ﺟﻤﻌﺎ ﻣﻦ اﻟﺮﻭاﺓ ﻣﻦﻫﻢ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ اﻟﺨﺸﻨﻲ، ﻭﺣﻜﻰ اﺧﺘﻼﻑ اﻟﻌﻠﻤﺎء ﻓﻴﻪ، ﻭﻫﻮ ﻣﻦ ﺭﺟﺎﻝ " اﻟﺘﻬﺬﻳﺐ " ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺤﺎﻓﻆ ﻓﻲ " اﻟﺘﻘﺮﻳﺐ ": " ﺻﺪﻭﻕ ﻛﺜﻴﺮ اﻟﻐﻠﻂ ".
ﻓﻠﻌﻠﻪ ﻫﻮ ﺭاﻭﻱ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻟﻜﻦ اﻧﻘﻠﺐ اﺳﻤﻪ ﻋﻠﻰ ﺑﻌﺾ ﻧﺴﺎﺥ " اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ " ﻓﻘﺎﻝ: " ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻦ اﻟﺨﺸﻨﻲ " ﻓﻠﻢ ﻳﻌﺮﻓﻪ اﻝﻣﻦﺫﺭﻱ، ﻭﻋﺮﻓﻪ اﻟﻬﻴﺜﻤﻲ، ﻭﻟﻜﻨﻪ ﻓﺎﺗﻪ ﺃﻥ ﻳﻨﺒﻪ ﻋﻠﻰ اﻧﻘﻼﺏ اﺳﻤﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺳﺦ، ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻋﻠﻢ. ﺛﻢ ﺭاﺟﻌﺖ " ﻣﻌﺠﻢ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ " ﻓﻮﺟﺪﺕ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻴﻪ (3 / 104 / 1) ﻋﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ اﻟﺨﺸﻨﻲ ﻋﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺵ ﻋﻦ ﻟﻴﺚ ﻋﻦ ﻃﺎﻭﻭﺱ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻲ ﻳﻮﻡ اﻷﺿﺤﻰ.... ﻓﺬﻛﺮﻩ. ﻗﻠﺖ: ﻓﺘﺒﻴﻦ ﺃﻧﻪ ﻫﻮ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ اﻟﺬﻱ ﺫﻛﺮﻩ اﻟﺴﻤﻌﺎﻧﻲ ﻭﺃﻧﻪ اﻧﻘﻠﺐ اﺳﻤﻪ ﻋﻠﻰ ﺑﻌﻀﻬﻢ. ﻭاﺯﺩﺩﺕ ﻋﻠﻤﺎ ﺑﻀﻌﻒ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺣﻴﻦ ﺭﺃﻳﺖ ﻓﻴﻪ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺵ ﻭﻟﻴﺚ ﻭﻫﻮ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻠﻴﻢ ﻓﻬﻮ ﺇﺳﻨﺎﺩ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﺎﻟﻀﻌﻔﺎء! . ﻭاﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﺗﻮﻓﻴﻘﻪ. (الضعيفة 2/13,14)


 2. قربانی کا جانورخون گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں مقبول ہوجانا 
اس باب میں تین روایات مروی ہیں, دو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور دو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے. 

حديث عائشة ١ :
   ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻣﺎ ﻋﻤﻞ ﺁﺩﻣﻲ ﻣﻦ ﻋﻤﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﻨﺤﺮ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﺇﻫﺮاﻕ اﻟﺪﻡ، ﺇﻧﻪ ﻟﻴﺄﺗﻲ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﺑﻘﺮﻭﻧﻬﺎ ﻭﺃﺷﻌﺎﺭﻫﺎ ﻭﺃﻇﻼﻓﻬﺎ، ﻭﺃﻥ اﻟﺪﻡ ﻟﻴﻘﻊ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﺑﻤﻜﺎﻥ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﻘﻊ ﻣﻦ اﻷﺭﺽ، ﻓﻄﻴﺒﻮا ﺑﻬﺎ ﻧﻔﺴﺎ» 
   ترجمہ : انسان نے قربانی کے دن خون بہانے (قربانی)  سے زیادہ اللہ کے یہاں کوئی محبوب عمل نہیں کیا, قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ, بال, کھر کے ساتھ حاضر ہوگا,  اور خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں مقبول ہوجاتا ہے, پس خوش دلی سے قربانی کیا کرو. 



أخرجه الترمذي ( 2 / 352 ) و ابن ماجة ( 2 / 272 ) و الحاكم ( 4 /221 - 222 ) و البغوي في " شرح السنة " ( 4 / 342 ) من طريق عبد الله بن نافع عن أبي المثنى سليمان بن يزيد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة مرفوعا . 

الحكم على الحديث : 

    هذا الحديث ضعيف جدا،
قال العراقي : أخرجه الترمذي و حسنه ابن ماجه و ضعفه ابن حبان ، و قال البخاري : إنه مرسل، و وصله ابن خزيمة (تخريج أحاديث الإحياء 1/314) 
و قال ابن القيسراني : فيه ابو المثنى يخالف الثقات (معرفة التذكرة 1/195)

و قال ابن الجوزي : "ﻭﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﻻ ﻳﺼﺢ ﻗﺎﻝ ﻳﺤﻴﻰ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻧﺎﻓﻊ ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻣﻨﻜﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ: "ﻻ ﻳﺤﺘﺞ ﺑﺄﺧﺒﺎﺭﻩ". (العلل المتناهية 2/79)
   و هذا لو سلمناه عبد الله بن نافع العدوي مولى ابن عمر كما ذهب اليه ابن الجوزي و يؤيده أنه من الطبقة السابعة و شيخه أبو المثنى من الطبقة السادسة، و لكن لو اعتبرناه عبد الله بن نافع الصائغ فهو ثقة صحيح الكتاب كما في التقريب ، و جاء ذلك مصرحا عند البغوي، و يدل عليه التراجم المعقودة في كتب الرجال، فانهم ذكروا في ترجمة أبي المثنى هشاما في شيوخه، و في الرواة عنه : عبد الله بن نافع الصائغ دون العدوي . لكنهم عدو الصائغ من الطبقة العاشرة. 

و قال الترمذي في العلل الكبير : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ أَبِي الْمُثَنَّى , عنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّحَايَا فَقَالَ: هُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ. لَمْ يَسْمَعْ أَبُو الْمُثَنَّى مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , قُلْتُ لَهُ: أَبُو الْمُثَنَّى مَا اسْمُهُ؟ قَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ مَدِينِيُّ , رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ
(العلل الكبير للترمذي 1/244)
  و لكن له طريق مسند، ذكره البيهقي في  سننه فقال : ﻗﺎﻝ اﻟﺸﻴﺦ ﺃﺣﻤﺪ: ﺭﻭاﻩ اﺑﻦ ﺧﺰﻳﻤﺔ ﻋﻦ ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻷﻋﻠﻰ , ﻋﻦ اﺑﻦ ﻭﻫﺐ , ﻋﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﻤﺜﻨﻰ , ﻋﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﺔ , ﻋﻦ ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻋﺮﻭﺓ , ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ , ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﺎ , ﻭﻋﻦ ﻋﻤﻪ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﻋﻘﺒﺔ ﻫﻜﺬا ﺑﺎﻟﺸﻚ ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: " ﻣﺎ ﻋﻤﻞ ﺁﺩﻣﻲ ﻣﻦ ﻋﻤﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﻨﺤﺮ ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﺇﻫﺮاﻗﻪ ﺩﻣﺎ " , ﺛﻢ ﺫﻛﺮﻩ
  (السنن الكبرى للبيهقي 9/437)

حديث عائشة ٢ :

روى الحافظ أبو عمر ابن عبد البر في التمهيد قال: أخبرنا عبد الوارث بن سفيان، قال حدثنا قاسم بن أصبغ، قال حدثنا محمد بن الجهم السمري، قال حدثنا نصر بن حماد، قال حدثنا محمد بن راشد، عن سليمان بن موسى، عن عطاء بن أبي رباح، عن عائشة قالت: يا أيها الناس، ضحوا وطيبوا بها أنفسا، فإني سمعت رسول الله - يقول: ما من عبد توجه بأضحيته إلى القبلة إلا كان دمها وفرثها وصوفها حسنات محضرات في ميزانه يوم القيامة، فإن الدم وإن وقع في التراب، فإنما يقع في حرز الله حتى بوفيه صاحبه يوم القيامة. وقال رسول الله : اعملوا يسيرا  تجزوا كثيرا
    (التمهيد لابن عبد البر 23/193)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے لوگو, قربانی کرو اور خوش دلی سے کرو, کیوں کہ میں نے رسالتمآب صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب بھی کوئی بندہ قربانی کے لئے اپنے جانور کو قبلہ رو کرتا ہے تو اس کا خون, گوبر اور اون نیکیاں بن کر اس کے نامہ اعمال میں موجود ہوں گی , خون چاہے زمین پر (بظاہر)  گرتا ہے مگر حقیقت میں اللہ کی امان میں گرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس قربانی والے کو پورا پورا بدلہ دے دیں گے, نیز آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے ارشاد فرمایا : تھوڑا عمل کرو زیادہ آخر پاؤگے

الحكم على الحديث: 

   و هو ضعيف ، فيه نصر بن حماد ، قال الذهبي في الميزان : ﻗﺎﻝ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﻭﻏﻴﺮﻩ: ﻟﻴﺲ ﺑﺜﻘﺔ.
ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﻳﺘﻜﻠﻤﻮﻥ ﻓﻴﻪ. و ذﻛﺮ ﻟﻪ اﺑﻦ ﻋﺪﻱ ﻣﻨﺎﻛﻴﺮ، وﻗﺎﻝ ﻓﻴﻪ ﻣﺴﻠﻢ: ﺫاﻫﺐ اﻟﺤﺪﻳﺚ.ﻗﺎﻝ ﺻﺎﻟﺢ ﺟﺰﺭﺓ: ﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ.وﻗﺎﻝ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻣﻌﻴﻦ: ﻛﺬاﺏ.  (ميزان الاعتدال 4 /250,251)

  و قال الحافظ في التقريب : ﻧﺼﺮ اﺑﻦ ﺣﻤﺎﺩ اﺑﻦ ﻋﺠﻼﻥ اﻟﺒﺠﻠﻲ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺎﺭﺙ اﻟﻮﺭاﻕ اﻟﺒﺼﺮﻱ ﺿﻌﻴﻒ ﺃﻓﺮﻁ اﻷﺯﺩﻱ ﻓﺰﻋﻢ ﺃﻧﻪ ﻳﻀﻊ  (تقريب التهذيب 560)

حدیث علی٣ :

8319 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﻮﺳﻰ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ، ﻧﺎ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﺤﺼﻴﻦ، ﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻼﺛﺔ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻏﻨﻴﺔ، ﻋﻦ اﻟﺤﻜﻢ، ﻋﻦ ﺣﻨﺶ اﻟﻜﻨﺎﻧﻲ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: «ﻳﺎ ﺃﻳﻬﺎ اﻟﻨﺎﺱ، ﺿﺤﻮا ﻭاﺣﺘﺴﺒﻮا ﺑﺪﻣﺎﺋﻬﺎ، ﻓﺈﻥ اﻟﺪﻡ ﻭﺇﻥ ﻭﻗﻊ ﻓﻲ اﻷﺭﺽ، ﻓﺈﻧﻪ ﻳﻘﻊ ﻓﻲ ﺣﺮﺯ اﻟﻠﻪ ﺟﻞ ﻭﻋﺰ»
ﻟﻢ ﻳﺮﻭ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﻦ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻏﻨﻴﺔ  اﺑﻦ ﻋﻼﺛﺔ، ﺗﻔﺮﺩ ﺑﻪ: ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﺤﺼﻴﻦ "
(المعجم الأوسط)
اے لوگو ! قربانی کیا کرو, اور اس کے خون سے ثواب کی امید رکھو, کیوں کہ خون گو زمین پر گر رہا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کی حرز میں جا رہا ہے. 

الحکم علی الحدیث :
ضعيف جدا
  قال الهيثمي : ﻭﻓﻴﻪ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﺤﺼﻴﻦ اﻟﻌﻘﻴﻠﻲ، ﻭﻫﻮ ﻣﺘﺮﻭﻙ اﻟﺤﺪﻳﺚ. (مجمع الزوائد 4/17) و في الميزان : ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ: ﺫاﻫﺐ اﻟﺤﺪﻳﺚ.وﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺯﺭﻋﺔ: ﻭاﻩ. وﻗﺎﻝ اﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ: ﻣﺘﺮﻭﻙ.وﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻋﺪﻱ: ﺣﺪﺙ ﻋﻦ اﻟﺜﻘﺎﺕ ﺑﻐﻴﺮ ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻨﻜﺮ. (ميزان الاعتدال 3/254)
وقال الذهبي في الضعفاء : - ﻗ / ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﺤﺼﻴﻦ اﻟﻌﻘﻴﻠﻲ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻼﺛﺔ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﺿﻌﻔﻮﻩ ﺟﺪا (المغني في الضعفاء 1/67)

و قال الحافظ في التقريب : ﻋﻤﺮﻭ اﺑﻦ اﻟﺤﺼﻴﻦ اﻟﻌﻘﻴﻠﻲ ﺑﻀﻢ ﺃﻭﻟﻪ اﻟﺒﺼﺮﻱ ﺛﻢ اﻟﺠﺰﺭﻱ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﻣﻦ اﻟﻌﺎﺷﺮﺓ ﻣﺎﺕ ﺑﻌﺪ اﻟﺜﻼﺛﻴﻦ ﻗ (تقريب التهذيب ص: 420)


3. ہر بال کے بدلے ایک نیکی والی روایت :

   ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺭﻗﻢ ﻗﺎﻝ: ﻗﻠﺖ: ﺃﻭ ﻗﺎﻟﻮا: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻣﺎ ﻫﺬﻩ اﻷﺿﺎﺣﻲ؟ ﻗﺎﻝ: " ﺳﻨﺔ ﺃﺑﻴﻜﻢ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ". ﻗﺎﻟﻮا: ﻣﺎ ﻟﻨﺎ ﻣﻨﻬﺎ؟ ﻗﺎﻝ: " ﺑﻜﻞ ﺷﻌﺮﺓ ﺣﺳﻨﺔ ". ﻗﺎﻟﻮا: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻓﺎﻟﺼﻮﻑ؟ ﻗﺎﻝ: " ﺑﻜﻞ ﺷﻌﺮﺓ ﻣﻦ اﻟﺼﻮﻑ ﺣﺴﻨﺔ "
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے یا لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول,  یہ قربانی کیا ہے ؟ فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم کی سنت ہے, لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ہمارے لئے اس میں کیا ہے؟ فرمایا : ہر بال کے عوض ایک نیکی, تو کہا: اون؟ فرمایا : اون کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے . 

     رواه أحمد (19283)  و ابن ماجه (32127)  و الطبراني في المعجم الكبير (5075) و الحاكم في المستدرك (3467) و البيهقي في الكبرى (19016,19017,19018)  و في الشعب (6965) و قاضي المارستان في مشيخته (300) و أبوبكر الوراق في فضل يوم عرفة (8) و قوام السنة في الترغيب والترهيب (356) بأسانيدهم عن ﺳﻼﻡ ﺑﻦ ﻣﺴﻜﻴﻦ، ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺬ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﻤﺠﺎﺷﻌﻲ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺩاﻭﺩ اﻟﺴﺒﻴﻌﻲ، ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺭﻗﻢ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ. 

الحكم على الحديث : 

و هذا ضعيف جدا، لاشتماله على علتين 
(1) قال البوصيري في الزوائد : ﻓﻲ ﺇﺳﻨﺎﺩﻩ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ. ﻭاﺳﻤﻪ ﻧﻔﻴﻊ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ. ﻭﻫﻮ ﻣﺘﺮﻭﻙ.  (مصباح الزجاجة: 3/223 )
و قال ابن القيسراني : فيه نفيع بن الحارث الأعمى، ليس بثقة و لا مأمون. (معرفة التذكرة 1/172)
(2) قال ابن التركماني : وفى سنده عائذ الله المجاشعي عن أبي داود نفيع بن الحارث فحكى (عن البخاري قال عائذ الله المجاشعي عن أبي داود لا يصح حديثه) قلت - سكت البيهقي عن أبي داود نفيع وهو متروك ذكره الذهبي في كتابيه الكاشف والضعفاء -(الجوهر النقي 9/261)
و قال الذهبي معقبا قول الحاكم ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ اﻹﺳﻨﺎﺩ ﻭﻟﻢ ﻳﺨﺮﺟﺎﻩ : ﻋﺎﺋﺬ اﻟﻠﻪ ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ ﻣﻨﻜﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ (تلخيص المستدرك)
 وذكره العقيلي في الضعفاء في ترجمة عائذ الله (الضعفاء الكبير 3/419)
  و قال شعيب الأرناؤط : ﺇﺳﻨﺎﺩﻩ ﺿﻌﻴﻒ ﺟﺪا، ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ- ﻭﻫﻮ ﻧﻔﻴﻊ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ اﻷﻋﻤﻰ- اﻟﻜﻮﻓﻲ ﻣﺘﺮﻭﻙ، ﻭﻋﺎﺋﺬ اﻟﻠﻪ اﻟﻤﺠﺎﺷﻌﻲ ﺿﻌﻴﻒ، ﻭﺑﻘﻴﺔ ﺭﺟﺎﻟﻪ ﺛﻘﺎﺕ ﺭﺟﺎﻝ اﻟﺸﻴﺨﻴﻦ. (تخريج مسند أحمد رقم الحديث 19283)

  قام بجمعه و ترتيبه العبد رشيد الدين المعروفي غفرله 
٨ ذو الحجة الحرام 1٤٤١، المصادف ٣٠ تموز ٢٠٢٠م 

--------------------------------------------------

https://t.me/ganjinaeilm

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Istiqbale Ramzan ki dua

Hamam se nikalne ke bad pairon ko dhona

Khane ki ibtida namak se