Kya Ashabe kahaf ka kutta jannat me jaega?
سلسلہ نمبر 5
🌱کیا اصحاب کہف کا کتا جنت میں جائے گا🎋
سوال : مشہور ہے کہ اصحاب کہف کا کتا جنت میں جائے گا, اس کی کیا حقیقت ہے ؟
جواب :
ثابت نہیں
تحقیق :
یہ بات کسی مرفوع روایت سے ثابت نہیں، اور نہ ہی کسی صحابی سے کہ اسے حکما مرفوع کہا جائے، بعد کے بعض علمائے تفسیر سے منقول ہے، اور یہ بات توقیفی ہے بغیر نص کے نہیں کہی جا سکتی، نیز ایت کریم ومامن دابۃ فی الارض ولاطائر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم الخ(الانعام) کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یحشر الخلق کلہم یوم القیامۃ : البہائم والدواب والطير وكل شئ فيبلغ منرعدل الله يومئذ أن ىؤخذ للجماء من القرناء، قال: ثم يقول كوني ترابا، فلذلك يقول الكافر ياليتني كنت ترابا (ذكره ابن كثير في تفسيره 3/37معزوا لعبد الرزاق، وأخرجه الطبري في تفسيره مرفوعا) ابن کثیر فرماتے ہیں اس مضمون پر مشتمل اثار حضرت عبداللہ بن عمرو وغیرہ سے بھی منقول ہیں (تفسیر ابن کثیر 8/311) اس کا مقتضی یہ ہے کہ بہائم وحيوانات زندہ کرکے فنا کردیے جائیں گے اب اس عموم سے کلب اھل کہف کو مستثنی کرنے کے لیے مضبوط دلیل کی ضرورت ہوگی اور وہ مفقود ہے، بعض اہل تفسیر سے ان کے قول کے طور پر منقول ہے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب نہیں کیا گیا
ملاحظہ ہوں اقوال ذیل:
1/روح البیان(5/226) میں اسماعیل حقی (ت:1127ھ) نے لکھا ہے: قال مقاتل: عشرۃ من الحيوانات تدخل الجنة : ناقة صالح، وعحل ابراہیم، وكبش إسماعيل، وبقرة موسى، وحوت يونس، وحمار عزير، ونملة سليمان، وهدهد بلقيس، وكلب أصحاب الكهف، وناقة محمد صلى الله عليه وسلم، فكلهم يصيرون على صورة كبش، ويدخلون الجنة.
اس میں تو اولا مصنف نے کسی مخرج کا ذکر نہیں کیا، ثانیا مقاتل بن سلیمان جن کے بارے میں حافظ ذھبی فرماتے ہیں : اجمعوا علی ترکہ، امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: اتانا من المشرق رأيان خبيثان: جهم معطل، ومقاتل مشبه، وکیع کہتے ہیں : کان کذابا، امام. بخاری کا ارشاد ہے: مقاتل لاشئ البتتۃ (سیر اعلام النبلاء 7/202)
تقريب میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : کذبوہ وھجروہ، ورمی بالتھجیم (تقریب التھذیب 6868) اس لیے یہ روایت قطعا ناقابل التفات ہے
2/حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی میں خالد بن معدان کا قول منقول ہے : لیس فی الجنۃ من الدواب الا کلب اھل الکہف وناقۃ صالح، وحمار العزیر (حاشیۃ الشھاب 6/89) اس می خالد بن معدان ثقہ کثیر الارسال ہیں، اوساط تابعین میں سے ہیں اس لیے یہ اثر کافی نہیں ہے
علامہ الوسی (1270ھ) روح المعانی(8/215) میں مذکورہ بالا اقوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ﻭﺟﺎء ﻓﻲ ﺷﺄﻥ ﻛﻠﺒﻬﻢ ﺃﻧﻪ ﻳﺪﺧﻞ اﻟﺠﻨﺔ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ. ﻓﻌﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﺑﻦ ﻣﻌﺪاﻥ ﻟﻴﺲ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﻣﻦ اﻟﺪﻭاﺏ ﺇﻻ ﻛﻠﺐ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻜﻬﻒ ﻭﺣﻤﺎﺭ ﺑﻠﻌﻢ، ﻭﺭﺃﻳﺖ ﻓﻲ ﺑﻌﺾ اﻟﻜﺘﺐ ﺃﻥ ﻧﺎﻗﺔ ﺻﺎﻟﺢ ﻭﻛﺒﺶ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺃﻳﻀﺎ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﻭﺭﺃﻳﺖ ﺃﻳﻀﺎ ﺃﻥ ﺳﺎﺋﺮ اﻟﺤﻴﻮاﻧﺎﺕ اﻟﻤﺴﺘﺤﺴﻨﺔ ﻓﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻛﺎﻟﻈﺒﺎء ﻭاﻟﻄﻮاﻭﻳﺲ ﻭﻣﺎ ﻳﻨﺘﻔﻊ ﺑﻪ اﻟﻤﺆﻣﻦ ﻛﺎﻟﻐﻨﻢ ﺗﺪﺧﻞ اﻟﺠﻨﺔ ﻋﻠﻰ ﻛﻴﻔﻴﺔ ﺗﻠﻴﻖ ﺑﺬﻟﻚ اﻟﻤﻜﺎﻥ ﻭﺗﻠﻚ اﻟﻨﺸﺄﺓ ﻭﻟﻴﺲ ﻓﻴﻤﺎ ﺫﻛﺮ ﺧﺒﺮ ﻳﻌﻮﻝ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻴﻤﺎ ﺃﻋﻠﻢ ﻧﻌﻢ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﺣﻴﻮاﻧﺎﺕ ﻣﺨﻠﻮﻗﺔ ﻓﻴﻬﺎ، ﻭﻓﻲ ﺧﺒﺮ ﻳﻔﻬﻢ ﻣﻦ ﻛﻼﻡ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﺻﺤﺘﻪ اﻟﺘﺼﺮﻳﺢ ﺑﺎﻟﺨﻴﻞ ﻣﻨﻬﺎ ﻭاﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻋﻠﻢ. ﻭﻗﺪ اﺷﺘﻬﺮ اﻟﻘﻮﻝ ﺑﺪﺧﻮﻝ ﻫﺬا اﻟﻜﻠﺐ اﻟﺠﻨﺔ ﺣﺘﻰ ﺇﻥ ﺑﻌﺾ اﻟﺸﻴﻌﺔ ﻳﺴﻤﻮﻥ ﺃﺑﻨﺎءﻫﻢ ﺑﻜﻠﺐ ﻋﻠﻲ ﻭﻳﺆﻣﻞ ﻣﻦ ﺳﻤﻲ ﺑﺬﻟﻚ اﻟﻨﺠﺎﺓ ﺑﺎﻟﻘﻴﺎﺱ اﻷﻭﻟﻮﻱ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺫﻛﺮ ﻭﻳﻨﺸﺪ: ﻓﺘﻴﺔ اﻟﻜﻬﻒ ﻧﺠﺎ ﻛﻠﺒﻬﻢ ... ﻛﻴﻒ ﻻ ﻳﻨﺠﻮ ﻏﺪا ﻛﻠﺐ ﻋﻠﻲ ﻭﻟﻌﻤﺮﻱ ﺇﻥ ﻗﺒﻠﻪ ﻋﻠﻲ ﻛﺮﻡ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭﺟﻬﻪ ﻛﻠﺒﺎ ﻟﻪ ﻧﺠﺎ ﻭﻟﻜﻦ ﻻ ﺃﻇﻦ ﻳﻘﺒﻠﻪ ﻷﻧﻪ ﻋﻘﻮﺭ ﺑﺎﺳﻂ ﺫﺭاﻋﻴﻪ ﻣﺎﺩﻫﻤﺎ، (روح المعانی)
اسلام ویب پر اس استفتاء کا جواب یہ دیا گیا :
فإنا لا نعلم دليلا يثبت دخول حمار عزير وكلب أصحاب الكهف للجنة، فلا ندري هل ما يقول بعض الناس مأخوذ من الإسرائيليات أم ماذا. ومن المعلوم أن أمر الجنة غيب، لا يمكن الحكم على ثبوت من يدخلها إلا بدليل من الوحي.
وقد ورد في حديث الصور أن الدواب يقال لها يوم القيامة كوني ترابا كما ذكر المفسرون في سورة النبأ، وكما سبق في الفتوى رقم: 48988، والفتوى رقم: 23195، والفتوى رقم: 24868.
فإخراج بعضها من هذا العموم يحتاج لدليل ولا دليل، فيما نعلم. فالقول إذاً بأن كلب أهل الكهف وحمار عزير يدخلان الجنة قول يحتاج إلى دليل يثبته.
والله أعلم
فتاوی دار الإفتاء المصریہ(8/384) میں اس طرح کے سوال کے جواب میں یہ کہا گیا ہے :
معلوم ان امور الغیب ومنھا احوال الاخرۃ لاتعرف الا عن طريق الخبر الصحيح الثابت فی القرآن والسنۃ، ولم یرد دلیل یعتمد علیہ فی دخول الحيوانات الجنۃ. اس کے بعد شیخ محمد بخیت المطیعی کے حوالے سے ذکر کیا ہے: راجعنا معظم کتب التفسير والحديث والتوحيد فلم نجد مایثبت ذلک من حديث صحيح یعتمد علیہ، بل راینا ماینفی دخول تلک الحيوانات العشرۃ الجنۃ.
البتہ کلب اھل الکھف اصحاف کہف کے ساتھ قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے جس سے نیک صحبت کی افادیت و اہمیت کا پتہ چلتا
ہے اس حد تک استدلال درست ہے، جیساکہ علامہ ابن کثیر(773ھ) نے استنتاج کیا ہے :
ﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺟﺮﻳﺞ (3) ﻳﺤﺮﺱ ﻋﻠﻴﻬﻢ اﻟﺒﺎﺏ. ﻭﻫﺬا ﻣﻦ ﺳﺠﻴﺘﻪ ﻭﻃﺒﻴﻌﺘﻪ، ﺣﻴﺚ ﻳﺮﺑﺾ (4) ﺑﺒﺎﺑﻬﻢ ﻛﺄﻧﻪ ﻳﺤﺮﺳﻬﻢ، ﻭﻛﺎﻥ ﺟﻠﻮﺳﻪ ﺧﺎﺭﺝ اﻟﺒﺎﺏ؛ ﻷﻥ اﻟﻤﻼﺋﻜﺔ ﻻ ﺗﺪﺧﻞ ﺑﻴﺘﺎ ﻓﻴﻪ ﻛﻠﺐ -ﻛﻤﺎ ﻭﺭﺩ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﻴﺢ (5) -ﻭﻻ ﺻﻮﺭﺓ ﻭﻻ ﺟﻨﺐ ﻭﻻ ﻛﺎﻓﺮ، ﻛﻤﺎ ﻭﺭﺩ ﺑﻪ اﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﺤﺴﻦ (6) ﻭﺷﻤﻠﺖ ﻛﻠﺒﻬﻢ ﺑﺮﻛﺘﻬﻢ، ﻓﺄﺻﺎﺑﻪ ﻣﺎ ﺃﺻﺎﺑﻬﻢ ﻣﻦ اﻟﻨﻮﻡ ﻋﻠﻰ ﺗﻠﻚ اﻟﺤﺎﻝ. ﻭﻫﺬا ﻓﺎﺋﺪﺓ ﺻﺤﺒﺔ اﻷﺧﻴﺎﺭ؛ ﻓﺈﻧﻪ ﺻﺎﺭ ﻟﻬﺬا اﻟﻜﻠﺐ ﺫﻛﺮ ﻭﺧﺒﺮ ﻭﺷﺄﻥ. (تفسیر ابن كثير 5/144)
و كتبه : رشید الدین رضوان الدین المعروفی
Comments
Post a Comment