Shabebarat aur Qismat ka faisla



🌺🍂کیا شب براءت میں تقدیر لکھی جاتی ہے ☘🌾


سوال: کیا یہ بات ثابت ہے کہ شب براءت میں تقدیر لکھی جاتی ہے 
جواب : بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ شب برات میں اگلے شب براءت تک کے لوگوں کے عمریں لکھی جاتی ہیں, کسی کی شادی ہوتی ہے, کوئ پیدا ہوتا ہے مگر اس کا نام اس سال کے مردوں کی فہرست میں آچکا ہوتا ہے.
ان روایات پر کلام ہے, لیکن ان میں سے ایک روایت کو بعض علما نے حسن بھی کہا ہے, اور بقیہ احادیث ضعیف ہیں یا مرسل ہیں, اس سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ یہ بات بے اصل نہیں ہے,
 اس لئے  اس سلسلے میں علماء کی دو رائے سامنے آئ ہے, بعض علماء نے تو ترجیح کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب شب قدر میں ہوتا ہے اور اس کی روایات شب براءت کی رویات سے کہیں زیادہ مضبوط معتبر ہیں, اس لئے اس کے مقابلے میں شب براءت والی روایات معتبر نہیں 
  لیکن دوسری طرف اہل علم کی ایک جماعت نے تطبیق اور جمع کا راستہ اختیار کیا ہے. 

اور تطبیق مختلف طریقوں سے دی گئی ہے :


  1. شب براءت میں تقدیر لکھی جاتی ہے اور شب قدر میں اس کام پر مامور فرشتوں کے حوالے کی جاتی ہے, یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی بغوی نے نقل کی ہے مگر اس کی مکمل سند ذکر نہیں فرمائ
  2. موت کی تقدیر شب براءت میں لکھی جاتی ہے, بقیہ شب قدر میں. کیوں کہ زیادہ تر روایات میں موت ہی کا ذکر ہے 
  3.  ایک میں اجمالا لکھی جاتی ہے دوسرے میں تفصیلا
  4. ابتداء شب براءت میں ہوتی ہے اور اختتام شب قدر میں
  5. ایک میں امور دنیا سے متعلق دوسرے میں امور آخرت سے متعلق لکھی جاتی ہے.

اس باب میں سورہ دخان کی آیت کریمہ آنا انزلناہ فی ليلة مباركة الخ , حدیث ابی ہریرہ, حدیث مغیرۃ بن الیمان, حدیث عائشۃ, حدیث راشد بن سعد, اثر ابن عباس, اور قول عطاء بن یسار اس کے مآخذ ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے.

1/ آیت کریمہ:

ﺇﻧﺎ ﺃﻧﺰﻟﻨﺎﻩ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﺒﺎﺭﻛﺔ ﺇﻧﺎ ﻛﻨﺎ ﻣﻨﺬﺭﻳﻦ ﻓﻴﻬﺎ ﻳﻔﺮﻕ ﻛﻞ ﺃﻡ ﺣﻜﻴﻢ) (ﺳﻮﺭﺓ اﻟﺪﺧﺎﻥ ﺁﻳﺔ 3 ﻭ 4)
اس آیت میں عکرمہ کا قول ہے کہ اس سے مراد پندرہویں شعبان کی رات یعنی شب براءت ہے, مگر یہ قول ضعیف اور جمہور علماء کے خلا ف ہے علامہ آلوسی لکھتے ہیں : و هو قول شاذ غريب (روح المعاني :15/413)
کیوں کہ اس آیت میں اس مبارک رات میں نزول قرآن کی بات کہی گئی ہے اور سورہ قدر میں اس کی تفسیر آگئ ہے  انا أنزلناه في ليلة القدر کہ وہ رات شب قدر ہے, اس لئے عکرمہ کا قول صحیح نہیں ہے, چناں چہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
ﻭﻣﻦ ﻗﺎﻝ: ﺇﻧﻬﺎ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ -ﻛﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﻋﻜﺮﻣﺔ-ﻓﻘﺪ ﺃﺑﻌﺪ اﻟﻨﺠﻌﺔ ﻓﺈﻥ ﻧﺺ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺃﻧﻬﺎ ﻓﻲ ﺭﻣﻀﺎﻥ.  (تفسیر القرآن العظیم 7/246) 
قاضی شوکانی رقم طراز ہیں :
ﻭاﻟﺤﻖ ﻣﺎ ﺫﻫﺐ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﺠﻤﻬﻮﺭ ﻣﻦ ﺃﻥ ﻫﺬﻩ اﻟﻠﻴﻠﺔ اﻟﻤﺒﺎﺭﻛﺔ ﻫﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻻ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ، ﻷﻥ اﻟﻠﻪ ﺳﺒﺤﺎﻧﻪ ﺃﺟﻤﻠﻬﺎ ﻫﻨﺎ ﻭﺑﻴﻨﻬﺎ ﻓﻲ ﺳﻮﺭﺓ اﻟﺒﻘﺮﺓ ﺷﻬﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ اﻟﺬﻱ ﺃﻧﺰﻝ ﻓﻴﻪ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻭﺑﻘﻮﻟﻪ ﻓﻲ ﺳﻮﺭﺓ اﻟﻘﺪﺭ: ﺇﻧﺎ ﺃﻧﺰﻟﻨﺎﻩ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻓﻠﻢ ﻳﺒﻖ ﺑﻌﺪ ﻫﺬا اﻟﺒﻴﺎﻥ اﻟﻮاﺿﺢ ﻣﺎ ﻳﻮﺟﺐ اﻟﺨﻼﻑ ﻭﻻ ﻣﺎ ﻳﻘﺘﻀﻲ اﻻﺷﺘﺒﺎﻩ ﺃﻣﺮا ﻣﻦ ﻋﻨﺪﻧﺎ (فتح القدير للشوكاني 4/453) و كذا قال المظهري في تفسيره (8/368)

لیکن اس سے شب براءت میں تقدیر نویسی سے متعلق روایات کی تردید نہیں ہوتی, بلکہ صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ آیت کی مراد یہ رات نہیں ہے, ملا علی قاری رقم طراز ہیں :
ﻭﺇﺫا ﺛﺒﺖ ﺃﻥ ﻫﺬا اﻟﻨﺰﻭﻝ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﺛﺒﺖ ﺃﻥ اﻟﻠﻴﻠﺔ اﻟﺘﻲ ﻳﻔﺮﻕ ﻓﻴﻬﺎ ﻛﻞ ﺃﻣﺮ ﺣﻜﻴﻢ ﻓﻲ اﻵﻳﺔ ﻫﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻻ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ، ﻭﻻ ﻧﺰاﻉ ﻓﻲ ﺃﻥ ﻟﻴﻠﺔ ﻧﺼﻒ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻳﻘﻊ ﻓﻴﻬﺎ ﻓﺮﻕ، ﻛﻤﺎ ﺻﺮﺡ ﺑﻪ اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻭﺇﻧﻤﺎ اﻟﻨﺰاﻉ ﻓﻲ ﺃﻧﻬﺎ اﻟﻤﺮاﺩﺓ ﻣﻦ اﻵﻳﺔ، ﻭاﻟﺼﻮاﺏ ﺃﻧﻬﺎ ﻟﻴﺴﺖ ﻣﺮاﺩﺓ ﻣﻨﻬﺎ 
(مرقاۃ المفاتیح :3/974)
قاضی شوکانی لکھتے ہیں :
ﻭﺃﻭﺭﺩ (السيوطي)  ﻣﺎ ﻭﺭﺩ ﻓﻲ ﻓﻀﻞ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ، ﻭﺫﻟﻚ ﻻ ﻳﺴﺘﻠﺰﻡ ﺃﻧﻬﺎ اﻟﻤﺮاﺩ ﺑﻘﻮﻟﻪ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﺒﺎﺭﻛﺔ. (فتح القدیر 4/655)

اب ہم ان روایات کی طرف عود کرتے ہیں جو اس باب میں منقول ہیں :

2/ حديث عثمان بن المغيرة و أبي هريرة :

(اس روایت کو اکثر رواۃ نے عثمان بن المغیرۃ سے مرسلا روایت کیا ہے اور ایک راوی نے اسے مسندا روایت کیا ہے) 

أخرج الطبري في التفسير(22/10 ) من طريق  أبي أياس،  و الحسن بن علي الخلال في المجالس العشرة (5) من طويق أبي صالح كاتب الليث ، و ابن أبي الدنيا في فضائل رمضان (6) عن محمد بن الحسين بن سوار و البيهقي في الشعب (3558) من طريق سعيد بن سليمان، و البغوي في معالم التنزيل (7/288) من طريق ابن زنجويه عن عبد الله بن صالح 
كلهم (أبو أياس، أبوصالح, محمد بن الحسين، سعيد بن سليمان)  عن الليث ثني عقيل عن ابن شهاب أخبرني عثمان بن محمد بن المغيرة بن الأخنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : تقطع الآجال من شعبان الى شعبان، حتى إن الرجل لينكح و يولد له و لقد أخرج اسمه في الموتى. 
عثمان بن المغیرۃ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : موت کے اوقات ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک کے لیے طے کئے جاتے ہیں, یہاں تک کہ آدمی کا نکاح ہوتا ہے اسے اولاد ہوتی ہے اور اس کا نام مردوں میں آچکا ہوتا ہے. 
نوٹ: شعب الایمان میں عثمان کے قول کے طور پر مذکور ہے, مرفوعا نہیں, مگر یہ شاید نسخہ کی غلطی  ہو, کیوں کہ یہ روایت امام سیوطی نے الدر المنثور اور علامہ آلوسی نے روح المعانی میں شعب الایمان کے حوالے سے نقل کی ہے تو مرفوعا نقل کی ہے(الدر المنثور 7/401, روح المعانی 13/211)

اس کا ایک مسند طریق بھی ہے جس کو البانی نے دیلمی کے حوا لے سے ذکر کیا ہے:
ﻭﻗﺪ ﺭﻭﻱ ﻋﻨﻪ ﻣﺴﻨﺪا، ﺃﺧﺮﺟﻪ اﻟﺪﻳﻠﻤﻲ ﻓﻲ " ﻣﺴﻨﺪﻩ " (1/ 47 - اﻟﻐﺮاﺋﺐ اﻟﻤﻠﺘﻘﻄﺔ) ﻣﻦ ﻃﻮﻳﻘﻴﻦ ﺁﺧﺮﻳﻦ ﻗﺎﻻ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻟﻴﺚ ﻋﻦ ﻋﻘﻴﻞ ﻋﻦ اﺑﻦ ﺷﻬﺎﺏ ﻋﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ﻋﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ اﻟﻤﺴﻴﺐ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ... ﻓﺬﻛﺮﻩ.
مگر اس کے بارے میں شیخ فرماتے ہیں :
ﻟﻜﻦ ﻗﺎﻝ اﺑﻦ اﻟﻤﺪﻳﻨﻲ ﻓﻲ " اﻟﻌﻠﻞ " (89) :
" ﺭﻭﻯ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻫﺬا ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻨﺎﻛﻴﺮ ﻋﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ اﻟﻤﺴﻴﺐ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ".
ﻭﻟﻌﻞ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﻤﺎ ﺃﺷﺎﺭ ﺇﻟﻴﻪ ﻣﻦ (اﻟﻤﻨﺎﻛﻴﺮ) ، ﻭﻗﺪ ﺃﺷﺎﺭ اﻟﺤﺎﻓﻆ اﺑﻦ ﻛﺜﻴﺮ ﺇﻟﻰ ﻧﻜﺎﺭﺗﻪ ﻓﻲ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﻗﻮﻟﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: {ﻓﻴﻬﺎ ﻳﻔﺮﻕ ﻛﻞ ﺃﻣﺮ ﺣﻜﻴﻢ}
 (سلسلة الضعيفة:14/256)

3/ حديث عائشة :

روى ابويعلى في مسنده (4911) : ثنا سويد بن سعيد ثنا مسلم بن خالد عن طريف عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ حدثتهم «ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻛﺎﻥ ﻳﺼﻮﻡ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻛﻠﻪ ﻗﺎﻟﺖ: ﻗﻠﺖ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﺃﺣﺐ اﻟﺸﻬﻮﺭ ﺇﻟﻴﻚ ﺃﻥ ﺗﺼﻮﻣﻪ ﺷﻌﺒﺎﻥ؟ ﻗﺎﻝ: " ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻳﻜﺘﺐ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﻧﻔﺲ ﻣﻨﻴﺔ ﺗﻠﻚ اﻟﺴﻨﺔ، ﻓﺄﺣﺐ ﺃﻥ ﻳﺄﺗﻴﻨﻲ ﺃﺟﻠﻲ ﻭﺃﻧﺎ ﺻﺎﺋﻢ». 
قال محقق الكتاب حسين سليم أسد: اسناده ضعيف 
قال الهيثمي في المجمع : ﻓﻲ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﻪ.
ﺭﻭاﻩ ﺃﺑﻮ ﻳﻌﻠﻰ، ﻭﻓﻴﻪ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﻟﺰﻧﺠﻲ، ﻭﻓﻴﻪ ﻛﻼﻡ، ﻭﻗﺪ ﻭﺛﻖ (مجمع الزوائد 3/192) 

و قال المنذري: رواه ابويعلى و هو غريب وإسناده حسن (الترغيب والترهيب : 2/72)  و حسنه البوصيري في الاتحاف (3/85) و قال الدمياطي : اسناده لا بأس به (المتجر الرابح 140)

اس میں تین راویوں پر کلام ہے : مسلم بن خالد الزنجي, ان کے استاد طریف, اور امام ابویعلی کے استاذ سوید بن سعید

مسلم بن خالد الزنجي مختلف فیہ راوی ہے, حافظ ذہبی مغنی میں لکھتے ہیں :
ﺇﻣﺎﻡ ﺻﺪﻭﻕ ﻳﻬﻢ ﻭﺛﻘﻪ اﺑﻦ ﻣﻌﻴﻦ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻭﺿﻌﻔﻪ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﻭﺟﻤﺎﻋﺔ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻭﺃﺑﻮ ﺯﺭﻋﺔ ﻣﻨﻜﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ
(المغني للذهبي 2/655) کاشف میں حافظ ذہبی فرماتے ہیں : وثق و ضعفه أبوداؤد لكثرة غلطه (الكاشف 2/258) 
ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب میں ان کا خلاصہ صدوق کثیر الاوھام سے نکالا ہے (تقریب)  اور یہ حسن الحدیث راوی کا درجہ ہوتا ہے ابن عدی نے بھی الکامل میں کہا ہے: و هو حسن الحديث و ارجو انه لا بأس به (الكامل في ضعفاء الرجال 8/11)

دوسرا راوی ہے طریف :
عقیلی ان کے بارے میں فرماتے ہیں : لایعرف الا بہ لا یتابع علیہ (الضعفاء الکبیر 2/231)
میزان میں ان کے ترجمہ میں ذہبی لکھتے ہیں :
ﻃﺮﻳﻒ، ﺷﻴﺦ ﻟﻤﺴﻠﻢ اﻟﺰﻧﺠﻲ.
ﻟﻴﻨﻪ اﻟﻌﻘﻴﻠﻲ. ﻭﻫﻮ ﻃﺮﻳﻒ ﺑﻦ اﻟﺪﻓﺎﻉ.  
(ميزان الاعتدال 2/337)
لسان المیزان میں ابن حجر لکھتے ہیں :
3993 - ﻃﺮﻳﻒ.شيخ  ﻟﻤﺴﻠﻢ اﻟﺰﻧﺠﻲ.
ﻟﻴﻨﻪ اﻟﻌﻘﻴﻠﻲ ﻭﻫﻮ ﻃﺮﻳﻒ ﺑﻦ اﻟﺪﻓﺎﻉ ﻟﻪ ﻋﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻛﺜﻴﺮ ﻓﻲ ﻓﻀﻞ ﺷﻌﺒﺎﻥ. اﻧﺘﻬﻰ. و ﻓﻲ ﺛﻘﺎﺕ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ: ﻃﺮﻳﻒ ﺑﻦ اﻟﺪﻓﺎﻉ اﻟﺤﻨﻔﻲ ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﻠﺤﺔ ﺭﻭﻯ ﻋﻨﻪ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ اﻟﻴﻤﺎﻣﻲ ﻓﻬﻮ ﻫﻮ ﺇﻥ ﺷﺎء اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ.
لسان الميزان (4/351)

نوٹ: یہاں پر شیخ البانی نے طریف کو  مسلم بن خالد کا جد تصور کر لیا ہے, عن طریف کو بن طریف گردانا ہے, جب کہ ہمارے نسخے میں عن طریف ہے, اور میزان اور لسان میں طریف شیخ لمسلم الزنجي کے عنوان سے ان کا ترجمہ بھی موجود ہے, عقیلی نے الضعفاء الکبیر میں طریف کے ترجمہ کے تحت اس روایت کا اخراج بھی کیا ہے, حافظ نے بھی لسان میں طریف کے ترجمہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے

امام ابویعلی کے شیخ سوید بن سعید, فی نفسہ ثقہ راوی ہیں, لیکن اخیر عمر میں نابینا ہوگئے تھے اس وقت تلقین قبول کرنے لگ گئے تھے, لہذا بصارت جانے سے قبل جنہوں نے روایت لی ہے ان کی روایت درست ہوگی, بعد والوں کی نہیں (تفصیل کے لیے دیکھیے تہذیب التہذیب 2/248,249) ہمیں اس کا علم نہیں ہوسکا کہ ابویعلی موصلی نے ان سے کس وقت اخذ کیا ہے,
حافظ ذہبی نے کاشف میں لکھا ہے :
كان يحفظ لكنه تغير، قال البخاري عمي فتلقن، و قال النسائي : ليس بثقة (الكاشف للذهبي) 
حافظ ابن حجر نے ان کا خلاصہ یوں کشید کیا ہے:
 صدوق في نفسه إلا أنه عمي فصار يتلقن ما ليس من حديثه، فأفحش فيه ابن معين القول (تقريب التهذيب)
و معنى قوله أفحش فيه ابن معين القول أنه قال فيه : حلال الدم.

اس کا ایک دوسرا طریق ہے ناصر الدین البانی کہتے ہیں : 
ﻭﻗﺪ ﻭﺟﺪﺕ ﻟﻠﺤﺪﻳﺚ ﻃﺮﻳﻘﺎ ﺃﺧﺮﻯ، ﻭﻟﻜﻨﻬﺎ ﻻ ﺗﺴﺎﻭﻱ ﺷﻴﺌﺎ؛ ﻳﺮﻭﻳﻪ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ اﺑﻦ ﻗﻴﺲ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﻋﺮﻭﺓ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺑﻪ.
(سلسلة الضعيفة 11/149)
یہ طریق بھی ضعیف ہے, اس لئے کہ اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید بن ثابت بہت ضعیف راوی ہے, میزان میں ہے : ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻭاﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ: ﻣﻨﻜﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ.
ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﻭﻏﻴﺮﻩ: ﺿﻌﻴﻒ. و قال ابن عدی: عامة ما يرويه منكر (الميزان1/245)

اس طرح فضائل الاوقات للبیہقی (26) میں حضرت عائشہ ہی کی ایک طویل روایت کے ذیل میں آیا ہے: ..فيها أن يكتب كل مولود من بني آدم في هذه السنة، و فيها أن يكتب كل هالك من بني آدم في هذه السنة، و فيها ترفع أعمالهم، و فيها تنزل أرزاقهم الحديث.  أخرجه البيهقي في فضائل الأوقات (26) 0عن أبي عبد الله الحافظ: ثني أبوصالح خلف بن محمد ببخارى، ثنا صالح بن محمد البغدادي ثنا محمد بن عباد ثني حاتم بن إسماعيل عن نضر بن كثير عن يحيى بن سعيد عن عروة عن عن عائشة رضي الله عنها.  
لیکن اس میں ایک راوی ہے نضر بن کثیر جس پر جرح ہے, میزان میں ہے :
ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ: ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ.وﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ: ﻳﺮﻭﻯ اﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﻋﻦ اﻟﺜﻘﺎﺕ ﻋﻠﻰ ﻗﻠﺔ ﺭﻭاﻳﺘﻪ.وﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﻋﻨﺪﻩ ﻣﻨﺎﻛﻴﺮ. ﻭﺛﻘﻪ اﻟﻨﺴﺎﺋﻲ. وﻗﺎﻝ اﻷﺯﺩﻱ: ﺿﻌﻴﻒ. ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﺿﻌﻴﻒ (میزان الاعتدال 4/262) مغنی میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں : ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ﻳﺮﻭﻱ اﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﻋﻦ اﻟﺜﻘﺎﺕ  
المغني في ضعفاء الرجال :2/698)
میزان میں حافظ ذہبی نے نضر کے ترجمہ میں یہ حدیث بھی ذکر کی ہے

4: حديث راشد بن سعيد:

ﻭﺃﺧﺮﺝ اﻟﺪﻳﻨﻮﺭﻱ ﻓﻲ اﻟﻤﺠﺎﻟﺴﺔ (944) قال: ثنا أحمد بن خليد بن يزيد بن عبد الله الكندي، نا أبو اليمان الحكم بن نافع ثنا أبو بكر بن أبي مريم ﻋﻦ ﺭاﺷﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻳﻮﺣﻲ اﻟﻠﻪ ﺇﻟﻰ ﻣﻠﻚ اﻟﻤﻮﺕ ﺑﻘﺒﺾ ﻛﻞ ﻧﻔﺲ ﻳﺮﻳﺪ ﻗﺒﻀﻬﺎ ﻓﻲ ﺗﻠﻚ اﻟﺴﻨﺔ  (المجاسة للدينوري 5/،303, 315) و حكاه السيوطي في الدر المنثور (7/401) و الحبائك في أخبار الملآئك (ص:45) و الآلوسي في الروح (13/112)

یہ روایت مرسل ہے, کیوں کہ راشد بن سعد صحابی نہیں ہیں 
دوسرے ابوبکر بن ابی مریم ضعیف راوی ہیں ﺿﻌﻔﻪ ﺃﺣﻤﺪ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻟﻜﺜﺮﺓ ﻣﺎ ﻳﻐﻠﻂ.
ﻭﻛﺎﻥ ﺃﺣﺪ ﺃﻭﻋﻴﺔ اﻟﻌﻠﻢ. و ﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ: ﺭﺩﺉ اﻟﺤﻔﻆ، ﻻ ﻳﺤﺘﺞ ﺑﻪ ﺇﺫا اﻧﻔﺮﺩ. ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻋﺪﻱ: ﺃﺣﺎﺩﻳﺜﻪ ﺻﺎﻟﺤﺔ ﻭﻻ ﻳﺤﺘﺞ ﺑﻪ,ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ: ﺳﺮﻕ ﻷﺑﻲ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺮﻳﻢ ﺣﻠﻰ، ﻓﺄﻧﻜﺮ ﻋﻘﻠﻪ. وﺳﻤﻌﺖ ﺃﺣﻤﺪ ﻳﻘﻮﻝ: ﻟﻴﺲ ﺑﺸﺊ.
 (میزان  الاعتدال 4/498) 
تقریب میں حافظ لکھتے ہیں : ﺿﻌﻴﻒ ﻭﻛﺎﻥ ﻗﺪ ﺳﺮﻕ ﺑﻴﺘﻪ ﻓﺎﺧﺘﻠﻂ (تقريب التهذيب 1/623)

5/ اثر ابن عباس رضی اللہ عنہ :

ﺭﻭﻯ اﺑﻮ اﻟﻀﺤﻰ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ اﻥ اﻟﻠﻪ ﻳﻘﻀﻰ اﻻ ﻗﻀﻴﺔ ﻓﻰ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻭﻳﺴﻠﻤﻬﺎ اﻟﻰ ﺃﺭﺑﺎﺑﻬﺎ ﻓﻰ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ
(تفسير البغوي7/228)  
اس قول کی کوئ سند ذکر نہیں کی گئی ہے. 
امام قرطبی رحمہ اللہ نے ابن عباس کے اس قول کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے : و كان هذا جمعا بين القولين. (التذكرة بأحوال الموتى و أمور الآخرة ص:251)

لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہ کا دوسرا قول شب قدر سے متعلق بھی معروف ہے ﻗﺎﻝ: ﻳﻜﺘﺐ ﻣﻦ ﺃﻡ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻣﺎ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﺔ ﻣﻦ ﺭﺯﻕ ﻭﻣﻮﺕ، ﻭﺣﻴﺎﺓ ﻭﻣﻄﺮ، ﺣﺘﻰ ﻳﻜﺘﺐ اﻟﺤﺎﺝ: ﻳﺤﺞ ﻓﻼﻥ، ﻭﻳﺤﺞ ﻓﻼﻥ.ﻭﺃﺧﺮﺝ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻧﺼﺮ، ﻭاﺑﻦ اﻟﻤﻨﺬﺭ، ﻭاﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺗﻢ ﻋﻨﻪ ﻓﻲ ﻗﻮﻟﻪ: ﻓﻲﻫﺎ ﻳﻔﺮﻕ ﻛﻞ أمر ﺣﻜﻴﻢ  (فتح القدیر للشوكاني 4/655)
مستدرک حاکم میں ابن عباس کا قول بسند صحیح منقول ہے :
 ﻋﻦ سعيد بن جبير عن اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ، ﻗﺎﻝ: «§ﺇﻧﻚ ﻟﺘﺮﻯ اﻟﺮﺟﻞ ﻳﻤﺸﻲ ﻓﻲ اﻷﺳﻮاﻕ، ﻭﻗﺪ ﻭﻗﻊ اﺳﻤﻪ ﻓﻲ اﻟﻤﻮﺗﻰ» ، ﺛﻢ ﻗﺮﺃ {ﺇﻧﺎ ﺃﻧﺰﻟﻨﺎﻩ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﺒﺎﺭﻛﺔ، ﺇﻧﺎ ﻛﻨﺎ ﻣﻨﺬﺭﻳﻦ ﻓﻴﻬﺎ ﻳﻔﺮﻕ ﻛﻞ ﺃﻣﺮ ﺣﻜﻴﻢ} ﻳﻌﻨﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻓﻔﻲ ﺗﻠﻚ اﻝﻟﻴﻠﺔ ﻳﻔﺮﻕ ﺃﻣﺮ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﺇﻟﻰ ﻣﺜﻠﻬﺎ ﻣﻦ ﻗﺎﺑﻞ «ﺻﺤﻴﺢ اﻹﺳﻨﺎﺩ ﻭﻟﻢ ﻳﺨﺮﺟﺎﻩ» (المستدرك على الصحيحين 3678) و قال الذهبي في تلخيصه:  - ﺻﺤﻴﺢ ﻋﻠﻰ ﺷﺮﻁ ﻣﺴﻠﻢ (K367)
معجم کبیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﺃﻧﻪ ﺳﺌﻞ ﻋﻦ ﻗﻮﻟﻪ {ﺷﻬﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ اﻟﺬﻱ ﺃﻧﺰﻝ ﻓﻴﻪ اﻟﻘﺮﺁﻥ}  ﻗﻮﻟﻪ {ﺇﻧﺎ ﺃﻧﺰﻟﻨﺎﻩ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﺒﺎﺭﻛﺔ} 
ﻓﻘﺎﻝ: «ﺇﻧﻪ ﻗﺪ §ﺃﻧﺰﻝ ﻓﻲ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ ﻣﺒﺎﺭﻛﺔ ﺟﻤﻠﺔ ﻭاﺣﺪﺓ، ﺛﻢ ﺃﺭﺳﻞ ﻋﻠﻰ ﻣﻮاﻗﻊ اﻟﻨﺠﻮﻡ ﺭﺳﻼ ﻓﻲ اﻟﺸﻬﻮﺭ ﻭاﻷﻳﺎﻡ» (المعجم الکبیر :12095)


6: قول عطاء بن يسار :
روى ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺯاﻕ في مصنفه (7925)
ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻋﻦ ﻣﺴﻌﺮ، ﻋﻦ ﺭﺟﻞ، ﻋﻦ ﻋﻄﺎء ﺑﻦ ﻳﺴﺎﺭ ﻗﺎﻝ: «§ﺗﻨﺴﺦ ﻓﻲ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ اﻵﺟﺎﻝ، ﺣﺘﻰ ﺇﻥ اﻟﺮﺟﻞ ﻟﻴﺨﺮﺝ ﻣﺴﺎﻓﺮا، ﻭﻗﺪ ﻧﺴﺦ ﻣﻦ اﻷﺣﻴﺎء ﺇﻟﻰ اﻷﻣﻮاﺕ، ﻭﻳﺘﺰﻭﺝ ﻭﻗﺪ ﻧﺴﺦ ﻣﻦ اﻷﺣﻴﺎء ﺇﻟﻰ اﻷﻣﻮاﺕ» (المصنف لعبد الرزاق 4/317)
یہ عطاء بن یسار تابعی کا قول ہے حدیث نہیں ہے تبعا وضمنا اسے یہاں ذکر کردیا گیا ہے.

أقوال الترجيح:
قال ابوبكر بن العربي: قال القاضي أبو بكر ابن العربي رحمه الله :
"وليس في ليلة النصف من شعبان حديث يُعوَّلُ عليه ، لا في فضلها ، ولا في نسخ الآجال فيها ، فلا تلتفتوا إليها"  
(أحكام القرآن لابن العربي:4/111) 

قال الشوكاني بعد أن ساق حديث عثمان بن المغيرة : ﻭﻫﺬا ﻣﺮﺳﻞ ﻭﻻ ﺗﻘﻮﻡ ﺑﻪ ﺣﺠﺔ ﻭﻻ ﺗﻌﺎﺭﺽ ﺑﻤﺜﻠﻪ ﺻﺮاﺋﺢ اﻟﻘﺮﺁﻥ. ﻭﻣﺎ ﺭﻭﻱ ﻓﻲ ﻫﺬا ﻓﻬﻮ ﺇﻣﺎ ﻣﺮﺳﻞ ﺃﻭ ﻏﻴﺮ ﺻﺤﻴﺢ. ﻭﻗﺪ ﺃﻭﺭﺩ ﺫﻟﻚ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﺪﺭ اﻟﻤﻨﺜﻮﺭ. (فتح القدیر4/655)

قال الحافظ ابن كثير في تفسيره :
ﻭﻣﻦ ﻗﺎﻝ: ﺇﻧﻬﺎ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ -ﻛﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ ﻋﻜﺮﻣﺔ-ﻓﻘﺪ ﺃﺑﻌﺪ اﻟﻨﺠﻌﺔ ﻓﺈﻥ ﻧﺺ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺃﻧﻬﺎ ﻓﻲ ﺭﻣﻀﺎﻥ. ﻭاﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﺬﻱ ﺭﻭاﻩ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ، ﻋﻦ اﻟﻠﻴﺚ، ﻋﻦ ﻋﻘﻴﻞ ﻋﻦ اﻟﺰﻫﺮﻱ: ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ﺑﻦ اﻷﺧﻨﺲ ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: "ﺗﻘﻄﻊ اﻵﺟﺎﻝ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﺇﻟﻰ ﺷﻌﺒﺎﻥ، ﺣﺘﻰ ﺇﻥ اﻟﺮﺟﻞ ﻟﻴﻨﻜﺢ ﻭﻳﻮﻟﺪ ﻟﻪ، ﻭﻗﺪ ﺃﺧﺮﺝ اﺳﻤﻪ ﻓﻲ اﻟﻤﻮﺗﻰ" (2) ﻓﻬﻮ ﺣﺪﻳﺚ ﻣﺮﺳﻞ، ﻭﻣﺜﻠﻪ ﻻ ﻳﻌﺎﺭﺽ ﺑﻪ اﻟﻨﺼﻮﺹ.
(تفسير القرآن العظيم 7/246)

أقوال الجمع:
قال علي القاري في شرح مشكاة المصابيح:
ﻭﺇﺫا ﺛﺒﺖ ﺃﻥ ﻫﺬا اﻟﻨﺰﻭﻝ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﺛﺒﺖ ﺃﻥ اﻟﻠﻴﻠﺔ اﻟﺘﻲ ﻳﻔﺮﻕ ﻓﻴﻬﺎ ﻛﻞ ﺃﻣﺮ ﺣﻜﻴﻢ ﻓﻲ اﻵﻳﺔ ﻫﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻻ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ، ﻭﻻ ﻧﺰاﻉ ﻓﻲ ﺃﻥ ﻟﻴﻠﺔ ﻧﺼﻒ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻳﻘﻊ ﻓﻴﻬﺎ ﻓﺮﻕ، ﻛﻤﺎ ﺻﺮﺡ ﺑﻪ اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻭﺇﻧﻤﺎ اﻟﻨﺰاﻉ ﻓﻲ ﺃﻧﻬﺎ اﻟﻤﺮاﺩﺓ ﻣﻦ اﻵﻳﺔ، ﻭاﻟﺼﻮاﺏ ﺃﻧﻬﺎ ﻟﻴﺴﺖ ﻣﺮاﺩﺓ ﻣﻨﻬﺎ، ﻭﺣﻴﻨﺌﺬ ﻳﺴﺘﻔﺎﺩ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭاﻵﻳﺔ ﻭﻗﻮﻉ ﺫﻟﻚ اﻟﻔﺮﻕ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻣﻦ اﻟﻠﻴﻠﺘﻴﻦ ﺇﻋﻼﻣﺎ ﺑﻤﺰﻳﺪ ﺷﺮﻓﻬﻤﺎ اﻩـ.
ﻭﻳﺤﺘﻤﻞ ﺃﻥ ﻳﻘﻊ اﻟﻔﺮﻕ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﺎ ﻳﺼﺪﺭ ﺇﻟﻰ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ، ﻭﻳﺤﺘﻤﻞ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﻔﺮﻕ ﻓﻲ ﺇﺣﺪاﻫﻤﺎ ﺇﺟﻤﺎﻻ، ﻭﻓﻲ اﻷﺧﺮﻯ ﺗﻔﺼﻴﻼ، ﺃﻭ ﺗﺨﺺ ﺇﺣﺪاﻫﻤﺎ ﺑﺎﻷﻣﻮﺭ اﻟﺪﻧﻴﻮﻳﺔ، ﻭاﻷﺧﺮﻯ ﺑﺎﻷﻣﻮﺭ اﻷﺧﺮﻭﻳﺔ، ﻭﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ اﻻﺣﺘﻤﺎﻻﺕ اﻟﻌﻘﻠﻴﺔ.
(مرقاة 3/974)

وقال المفسر ثناء الله الفاني فتى : 
ﻗﻠﺖ ﻟﻌﻞ ﺗﻘﺪﻳﺮ اﻟﻤﻘﺎﺩﻳﺮ ﺑﻨﺤﻮ ﻣﻦ اﻻﻧﺠﺎء اﻭ ﺑﻌﻀﻬﺎ ﻓﻰ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻭﺗﻘﺪﻳﺮﻫﺎ ﻛﻠﻬﺎ ﻭﺗﺴﻠﻴﻤﻬﺎ اﻟﻰ ﺃﺭﺑﺎﺑﻬﺎ اﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﻓﻰ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ (تقسير المظهري 10/311)
و قال الآلوسي في الروح :
ﻫﺎﻫﻨﺎ ﺛﻼﺛﺔ ﺃﺷﻴﺎء اﻷﻭﻝ ﻧﻔﺲ ﺗﻘﺪﻳﺮ اﻷﻣﻮﺭ ﺃﻱ ﺗﻌﻴﻴﻦ ﻣﻘﺎﺩﻳﺮﻫﺎ ﻭﺃﻭﻗﺎﺗﻬﺎ، ﻭﺫﻟﻚ ﻓﻲ اﻷﺯﻝ، ﻭاﻟﺜﺎﻧﻲ ﺇﻇﻬﺎﺭ ﺗﻠﻚ اﻟﻤﻘﺎﺩﻳﺮ ﻟﻠﻤﻼﺋﻜﺔ ﻋﻠﻴﻬﻢ اﻟﺴﻼﻡ ﺑﺄﻥ ﺗﻜﺘﺐ ﻓﻲ اﻟﻠﻮﺡ اﻟﻤﺤﻔﻮﻅ ﻭﺫﻟﻚ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ، ﻭاﻟﺜﺎﻟﺚ ﺇﺛﺒﺎﺕ ﺗﻠﻚ اﻟﻤﻘﺎﺩﻳﺮ ﻓﻲ ﻧﺴﺦ ﻭﺗﺴﻠﻴﻤﻬﺎ ﺇﻟﻰ ﺃﺭﺑﺎﺑﻬﺎ ﻣﻦ اﻟﻤﺪﺑﺮاﺕ ﻓﺘﺪﻓﻊ ﻧﺴﺨﺔ اﻷﺭﺯاﻕ ﻭاﻟﻨﺒﺎﺗﺎﺕ ﻭاﻷﻣﻄﺎﺭ ﺇﻟﻰ ﻣﻴﻜﺎﺋﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﻭﻧﺴﺨﺔ اﻟﺤﺮﻭﺏ ﻭاﻟﺮﻳﺎﺡ ﻭاﻟﺠﻨﻮﺩ ﻭاﻟﺰﻻﺯﻝ ﻭاﻟﺼﻮاﻋﻖ ﻭاﻟﺨﺴﻒ ﺇﻟﻰ ﺟﺒﺮﻳﻞ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ، ﻭﻧﺴﺨﺔ اﻷﻋﻤﺎﻝ ﺇﻟﻰ ﺇﺳﺮاﻓﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ، ﻭﻧﺴﺨﺔ اﻟﻤﺼﺎﺋﺐ ﺇﻟﻰ ﻣﻠﻚ اﻟﻤﻮﺕ ﻭﺫﻟﻚ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ. ﻭﻗﻴﻞ ﻳﻘﺪﺭ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ اﻵﺟﺎﻝ ﻭاﻷﺭﺯاﻕ، ﻭﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ اﻷﻣﻮﺭ اﻟﺘﻲ ﻓﻴﻬﺎ اﻟﺨﻴﺮ ﻭاﻟﺒﺮﻛﺔ ﻭاﻟﺴﻼﻣﺔ. ﻭﻗﻴﻞ: ﻳﻘﺪﺭ ﻓﻲ ﻫﺬﻩ ﻣﺎ ﻳﺘﻌﻠﻖ ﺑﻪ ﺇﻋﺰاﺯ اﻟﺪﻳﻦ ﻭﻣﺎ ﻓﻴﻪ اﻟﻨﻔﻊ اﻟﻌﻈﻴﻢ ﻟﻠﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻭﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻳﻜﺘﺐ ﺃﺳﻤﺎء ﻣﻦ ﻳﻤﻮﺕ ﻭﻳﺴﻠﻢ ﺇﻟﻰ ﻣﻠﻚ اﻟﻤﻮﺕ ﻭاﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻋﻠﻢ ﺑﺤﻘﻴﻘﺔ اﻟﺤﺎﻝ.
(روح المعاني :15/415)
و قال أيضا: ﻭﻗﻴﻞ: ﻳﺒﺪﺁﻥ ﻓﻲ اﺳﺘﻨﺴﺎﺥ ﻛﻞ ﺃﻣﺮ ﺣﻜﻴﻢ ﻣﻦ اﻟﻠﻮﺡ اﻟﻤﺤﻔﻮﻅ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﺒﺮاءﺓ ﻭﻳﻘﻊ اﻟﻔﺮاﻍ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻘﺪﺭ ﻓﺘﺪﻓﻊ ﻧﺴﺨﺔ اﻷﺭﺯاﻕ ﺇﻟﻰ ﻣﻴﻜﺎﺋﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﻭﻧﺴﺨﺔ اﻟﺤﺮﻭﺏ ﺇﻟﻰ ﺟﺒﺮاﺋﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﻭﻛﺬﻟﻚ اﻟﺰﻻﺯﻝ ﻭاﻟﺼﻮاﻋﻖ ﻭاﻟﺨﺴﻒ ﻭﻧﺴﺨﺔ اﻷﻋﻤﺎﻝ ﺇﻟﻰ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﻤﺎء اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻭﻫﻮ ﻣﻠﻚ ﻋﻈﻴﻢ ﻭﻧﺴﺨﺔ اﻟﻤﺼﺎﺋﺐ ﺇﻟﻰ ﻣﻠﻚ اﻟﻤﻮﺕ.
ﻭﺭﻭﻱ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﺗﻘﻀﻰ اﻷﻗﻀﻴﺔ ﻛﻠﻬﺎ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﻨﺼﻒ ﻣﻦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻭﺗﺴﻠﻢ ﺇﻟﻰ ﺃﺭﺑﺎﺑﻬﺎ ﻟﻴﻠﺔ اﻟﺴﺎﺑﻊ ﻭاﻟﻌﺸﺮﻳﻦ ﻣﻦ ﺷﻬﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ. (روح المعاني :13/112)
--
 قام بجمعه و ترتيبه : العبد رشيد الدين المعروفي غفر الله له، ليلة النصف من شعبان ١٤٤١ھ, الموافق ۹ نیسان و۲۰۲۰م

---------------------------------------------------

https://t.me/ganjinaeilm

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Istiqbale Ramzan ki dua

Hamam se nikalne ke bad pairon ko dhona

Khane ki ibtida namak se